عراقی وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر راکٹ حملہ، فساد بھڑکانے کی سازش: ایران

شمخانی نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا کہ الکاظمی پر کیا گیا حملہ ایک غداری کی کارروائی ہے جس کا تعلق غیر ملکی طاقتوں سے ہے، جنہیں ملک میں عدم تحفظ، بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بغداد: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی رہائش گاہ پر کیا گیا ڈرون راکٹ حملہ ملک میں باغیوں کی سرگرمیوں کو ہوا دینے کی سازش ہے اور اس کا تعلق ’غیر ملکی طاقتوں‘ سے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس راکٹ حملے میں مصطفیٰ الکاظمی زخمی ہوئے تھے اور انہیں بعد میں اسپتال لے جایا گیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے خود ٹوئٹ کر کے کہا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ اس حملے میں ان کے تین سیکورٹی گارڈ زخمی ہو گئے ہیں۔ شمخانی نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا کہ ’’الکاظمی پر کیا گیا حملہ ایک غداری کی کارروائی ہے جس کا تعلق غیر ملکی طاقتوں سے ہے، جنہیں ملک میں عدم تحفظ، بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عراقی وزیراعظم نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے اہل وطن سے امن وامان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔


عراقی وزیر اعظم پر حملہ دہشت گردانہ کارروائی: وزارت داخلہ

عراقی وزارت داخلہ نے اتوارکے روز وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی پر کئے گئے ڈرون راکٹ حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قراردیا۔ عراقی ڈائیلاگ کمیٹی نے یہ اطلاع دی ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ حملہ تین ڈرون کی مدد سے کیا گیا تھا، جن میں سے دو کو مار گرایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد وزیر اعظم نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔