ایران کو سیٹلائٹ سسٹم کی پیش کش کی رپورٹ بکواس: پوتن

ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ہمارے ایران کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کے منصوبے سے متعلق خبریں فرضی ہیں۔ کم از کم مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن / تصویر آئی اے این ایس
روسی صدر ولادیمیر پوتن / تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

واشنگٹن: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی میڈیا میں روس کی جانب سے ایران کو جدید ترین سیٹلائٹ سسٹم فراہم کرنے کی تیاری سے خبروں کو ’بکواس‘ اور ’فرضی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں روس ایران سیٹلائٹ معاہدے کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ’’ہمارے ایران کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کے منصوبے سے متعلق خبریں فرضی ہیں۔ کم از کم مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ، جو لوگ اس تعلق سے بات کر رہے ہیں وہ شاید اس سلسلے میں زیادہ جانتے ہوں گے۔ یہ صرف ’بکواس‘ ہے۔

امریکی اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ نے جمعرات کے روز الزام لگایا ہے کہ روس ایران کو زمین کے مشاہدے کے لئے ایک اعلی صلاحیت والے کیمرے سے لیس سیٹلائٹ کنوپس- وی دینے والا ہے۔ اس کے لئے 2015 میں ایرانی اور روسی کمپنیوں کے مابین ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ نشریاتی ادارے کے مطابق سیٹلائٹ سے ایران، امریکہ میں امریکی فوجیوں سمیت فوجی اہداف کا پتہ لگانے اور ان کی نگرانی کرنے میں اہل ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔