جارج فلائیڈ کی موت کے خلاف ہیوسٹن میں پرامن مظاہرہ

مظاہرین نے پرامن طریقے سے ایک پارک سے ہیوسٹن سٹی ہال کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرے کے دوران لوگوں نے کچھ لمحے ک لئے خاموشی رکھی اور امن وامان کی اپیل کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ہیوسٹن: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں بدھ کو ہزاروں لوگوں نے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس حراست میں موت کے خلاف سڑکوں پر اتر کر پرامن مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج ومظاہرہ جارج فلائیڈ کے خاندان کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے پرامن طریقے سے ایک پارک سے ہیوسٹن سٹی ہال کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرے کے دوران لوگوں نے کچھ لمحے ک لئے خاموشی رکھی اور امن وامان کی اپیل کی۔ جارج فلائیڈ کے خاندان کے لئے مقامی چرچ کے ایک پادری نے دعا بھی کی۔ اس مظاہرہ میں جارج فلائیڈ کے خاندان کے 16 ارکان کے علاوہ کئی سیاستدان اور مقامی آرٹسٹ بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے مینی پولس میں سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی گزشتہ پیر کو پولیس حراست میں موت ہو گئی تھی۔ جارج فلائیڈ پر جعلی بل کے ذریعے ادا ئیگی کا الزام تھا۔ ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد لوگوں میں اشتعال پھیل گیا۔ اس ویڈیو میں ایک سفید فام پولیس افسر جارج فلائیڈ نامی ایک غیر مسلح سیاہ فام شخص کی گردن پر گھٹنے رکھ کر اس کی گردن دبانے لگتا ہے۔ اس کے کچھ ہی لمحے بعد 46 سالہ جارج فلائیڈ کی موت ہو جاتی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جارج اور ان کے آس پاس کھڑے لوگ پولیس افسر سے جارج فلائیڈ کو چھوڑنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ جارج کی گردن پر گھٹنے رکھنے والے ڈیریک چاؤون نامی پولیس افسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس پر قتل کے الزام لگائے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے سلسلے میں اب تک چار پولیس اہلکاروں کو برخاست کیا جا چکا ہے۔ جارج کی موت کے خلاف امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے کئی مقامات پر کرفیو بھی لگادیا گیا ہے.

next