ناروے: مسجد فائرنگ معاملے میں گرفتار ملزم نے قتل کے الزامات سے کیا انکار

ناورے میں اپنی سوتیلی بہن کے مشتبہ قتل اور پھر ایک مسجد پر فائرنگ کے واقعے کے بعد گرفتار ملزم نے قتل کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

وکیلِ صفائی اُنی فیریس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ''میرے موکل نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔‘‘ ملزم کو آج عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولس نے عدالتی کارروائی بند کمرے میں کرنے کی درخواست کر رکھی ہے۔

ناورے کے میڈیا نے اس ملزم کی شناخت اکیس سالہ فِلِپ منسہاؤس کے طور پر ظاہر کی ہے۔ زیرحراست ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنی سترہ سالہ سوتیلی بہن کو قتل کیا اور پھر دارالحکومت اوسلو کے نواحی علاقے میں واقع النور مسجد میں فائرنگ کی۔ فائرنگ کے دوران مسجد میں موجود ایک پینسٹھ سالہ شخص نے منسہاؤس کو قابو میں کر لیا تھا، جس کے بعد اسے پولس کے حوالے کر دیا گیا۔

مشتبہ حملہ آور کو قابو کرنے والے شخص محمد رفیق کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ پاکستانی فضائیہ کا ایک ریٹائرڈ اہلکار ہے۔ اس پاکستانی کو ناورے میں 'ہیرو‘ کہا جا رہا ہے۔