اے آئی کھانے لگی نوکریاں! میٹا نے ختم کردی 8 ہزار افراد کی ملازمت، مارک زکربرگ کا سخت قدم

میٹا کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مارک زکربرگ کا ماننا ہے کہ اے آئی آلات کی مدد سے اب ایک یا دو لوگ ہفتے میں وہ کام کررہے ہیں جسے پورا کرنے میں پہلے درجنوں انجینئروں کو کئی ماہ لگ جاتے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>مارک زکربرگ، فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے دنیا میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ وہیں دوسری طرف دنیا کے ٹیک سیکٹر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سبب لوگوں کی نوکریاں جانے کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔ فیس بُک کی بانی کمپنی میٹا 20 مئی کو اپنے 8 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے جا رہی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مارک زکربرگ اب میٹا کو چھوٹی اور اے آئی سے چلنے والی ٹیموں کے ارد گرد پھر سے تیار کر رہے ہیں۔ پہلی سہ ماہی کے حالیہ نتائج کے دوران زکربرگ نے واضح کر دیا ہے کہ کمپنی صرف ایسے ملازمین کو ساتھ رکھنا چاہتی ہے جو تنہا ہی بڑے پروجیکٹوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

زکربرگ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) آلات کی مدد سے اب ایک یا دو لوگ ایک ہفتے میں وہ کام کر رہے ہیں جسے پورا کرنے میں پہلے درجنوں انجینئروں کو کئی ماہ لگ جاتے تھے۔ اسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے کمپنی اپنی ٹیموں کو چھوٹا اور زیادہ پیدا واری بنا رہی ہے۔ زکربرگ کے مطابق یہ فیصلہ صرف اخراجات کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ میٹا کو مستقبل کے چیلینجز کے لئے تیار کرنے کا ایک ڈھانچہ جاتی متبادل ہے۔ کمپنی میں اب الٹرا فلیٹ ڈھانچہ نافذ کیا جارہا ہے جہاں 50 انجینئروں پر صرف ایک منیجر کام کر رہا ہے۔


میٹا اس برس اپنے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر ڈیٹا سینٹر، کسٹمر چپس اور اے آئی ماڈل ٹریننگ پر 125 سے 145 ارب ڈالر کا ریکارڈ سرمایہ خرچ کررہی ہے۔ کمپنی کی چیف فائننشل آفیسر سُسان لی نے واضح کیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے پر خرچ گزشتہ برس کے مقابلے تقریباً دوگنا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہ اور کمپنی کے بجٹ کے درمیان عدم توازن پیدا ہوگیا ہے۔ اسی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے 20 مئی کو ملازمین کی  برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سُسان لی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اے آئی کی تیزی سے بدلتی ہوئی صلاحیتوں کے پیش نظر میٹا کا مثالی سائز کیا ہونا چاہئے، اس کا اب کوئی واضح جواب نہیں ہے۔ اس بھاری خرچ اور غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے ارننگ کال کے بعد میٹا شیئرز میں 6 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔

ایک طرف جہاں صنعتی دنیا میں یہ بحث تیز ہے کہ اے آئی انسانوں کی جگہ لے رہا ہے وہیں زکربرگ کی دلیل ہے کہ یہ تکنیک ملازمین کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، نہ کہ انہیں ختم کرے گی۔ حالانکہ کمپنی کے اندر کا ماحول کچھ اور ہی بیان کر رہا ہے۔ میٹا نے ’ماڈل کیپبلٹی انیشیٹیو‘ نامی ایک داخلی ٹریکنگ ٹول نافذ کیا ہے جو اے آئی ایجنٹوں کو تربیت دینے کے لئے ملازمین کی اسٹروکس، کلک اور ماؤس کی نقل و حرکت کو ریکارڈ کرتا ہے۔ کارکردگی کی تشخیص میں اے آئی کے استعمال کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ ان سخت تبدیلیوں کی وجہ سے ملازمین کے حوصلے پست ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔


میٹا کی یہ نئی حکمت عملی ٹیکنالوجی کے سیکٹر میں کام کرنے کے طریقے کو پوری طرح سے بدل رہی ہے۔ کمپنی کا صاف پیغام ہے کہ مستقبل انہیں کا ہے جو اے آئی آلات کے ساتھ تیزی سے کام کرسکتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کہ بنیادی ڈھانچے پر کی جا رہی یہ بھاری سرمایہ کاری اور ٹیموں کا یہ نیا ڈھانچہ میٹا کو آگے چل کر کتنا اقتصادی فائدہ پہنچاتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔