اب میٹا سے 16 ہزار ملازمین کو نکالنے کی تیاری! اے آئی نے آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والوں کے اڑائے ہوش
میٹا اپنی اب تک کی سب سے بڑی ری اسٹرکچرنگ (تنظیمی تبدیلی) کا عمل شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ 20 مئی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس میں براہ راست 8,000 ملازمین متاثر ہوں گے۔

آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے 2026 کسی برے خواب سے کم ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں میں شامل میٹا (جسے پہلے فیس بک کے نام سے جانا جاتا تھا) نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آنے والے چند ہی مہینوں میں کمپنی تقریباً 16,000 افراد کی چھنٹنی کرنے جا رہی ہے۔ یہ صرف ایک کمپنی کا حال نہیں ہے بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری اس وقت ایک بڑے بدلاؤ اور بھاری چھنٹنی کے دور سے گزر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ٹیک چھنٹنی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’لے آفس ڈاٹ ایف وائی آئی‘ کے مطابق رواں سال اب تک 73,212 ٹیک ملازمین اپنی ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق میٹا اپنی اب تک کی سب سے بڑی ری اسٹرکچرنگ (تنظیمی تبدیلی) کا عمل شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ 20 مئی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس میں براہ راست 8,000 ملازمین متاثر ہوں گے۔ گزشتہ سال 31 دسمبر کی فائلنگ کے مطابق کمپنی میں تقریباً 79,000 افراد کام کر رہے تھے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں ملازمتیں کیوں جا رہی ہیں؟ اس کا سیدھا جواب ہے ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘، یعنی اے آئی۔ کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ اے آئی، جنریٹو ٹولز اور مشین لرننگ کے بنیادی ڈھانچے پر زور دے رہے ہیں۔ کمپنی اپنے کام کاج کو تیزی سے خودکار یعنی سافٹ ویئر کے حوالے کرنا چاہتی ہے، جس کے باعث انسانی افرادی قوت کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال کے دوسرے حصے میں بھی چھنٹنی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ملازمتوں کا یہ بحران صرف سوشل میڈیا کمپنیوں تک محدود نہیں ہے۔ تفریحی دنیا کی بڑی کمپنی ’ڈزنی‘ نے بھی بڑے پیمانے پر چھنٹنی کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈزنی کے سی ای او جوش ڈی امارو نے خود اعلان کیا ہے کہ کمپنی مختلف شعبوں سے تقریباً 1,000 ملازمین کو نکال رہی ہے۔ اسے ڈزنی کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی اندرونی تبدیلیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس چھنٹنی کا سب سے زیادہ اثر ’ماروَل اسٹوڈیوز‘ پر پڑا ہے، جہاں تقریباً 8 فیصد ملازمین کو ملازمت سے نکالا جا رہا ہے۔
دوسری طرف معروف امریکی آئی ٹی کمپنی ’اوریکل‘ کا رویہ ملازمت کھونے والے ملازمین کی مشکلات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اوریکل نے دنیا بھر میں اپنے 30,000 ملازمین کی چھنٹنی کی ہے، جس میں ہندوستان کے تقریباً 12,000 ملازمین بھی شامل ہیں۔ سب سے حیرت انگیز بات اوریکل کی وہ شرط ہے جو اس نے نکالے گئے ملازمین کے سامنے رکھی ہے۔ کمپنی نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ملازمین ’ڈاکو سائن‘ کے ذریعے بھیجے گئے دستاویزات پر دستخط نہیں کریں گے، انہیں کوئی سیورنس پیکیج (معاوضہ) نہیں دیا جائے گا۔ یعنی دستخط نہیں تو رقم نہیں۔ کمپنی نے اب تک اس پورے معاملے یا اپنی ان سخت شرائط پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔