لیبیا: سابق نائب وزیر اعظم الصادق عبدالکریم عبدالرحمن بدعنوانی کے معاملے میں گرفتار

اٹارنی جنرل کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’الصادق عبدالکریم نے آڈٹ بیورو کی اجازت کے بغیر، ناقص معیار اور زیادہ قیمتوں والے معاہدوں پر دستخط کیے۔‘‘

گرفتار، علامتی تصویر یو این آئی
گرفتار، علامتی تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

طرابلس: لیبیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے منگل کو سابق نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ الصادق عبدالکریم عبدالرحمن کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ آئندہ قومی انتخابات میں صدارتی عہدے کے امیدوار کریم کے خلاف مالی بدعنوانی کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں۔

اٹارنی جنرل کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، "الصادق عبدالکریم عبدالرحمن نے آڈٹ بیورو کی اجازت کے بغیر، ناقص معیار اور زیادہ قیمتوں والے معاہدوں پر دستخط کیے"۔ ان معاہدوں سے قوم کو 1.257 ارب (27.3 کروڑ امریکی ڈالر) کا نقصان ہوا ہے۔


بیان میں کہا گیا کہ "مدعا علیہ نے اپنے ایک دوست کو عوامی پیسہ جمع کرنے، قانون کی خلاف ورزی کرنے اورعہدے کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے مقصد سے مدد فراہم کی اور ان کے رویے کے نتیجے میں 23 کروڑ دینار (5 کروڑ ڈالر) سے زائد کا نقصان ہوا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ دو روزقبل دفتر نے وزیر ثقافت مبروکہ عثمان کو مالی بدعنوانی کے ایک کیس میں ان کی گرفتاری کے کئی دن بعد رہا کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔