کابل: عیدالاضحیٰ کی نماز کے وقت افغان صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے، نمازی خوفزدہ نظر آئے

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حملے میں تین راکٹ داغے گئے، راکٹ حملوں کی آواز سے کئی نمازی ڈر گئے، علاقے کو سیکورٹی اہلکاروں نے اپنے گھیرے میں لے لیا۔

تصویر بشکریہ طلوع نیوز
تصویر بشکریہ طلوع نیوز
user

عمران

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع صدارتی محل اس وقت راکیٹ کی آواز سے دہل گیا جس وقت صدر اشرف غنی چند اعلیٰ حکام کے ہمراہ عید الاضحیٰ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ واقعہ کی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر گردش کر رہی ہے جس میں صدر اشرف غنی کچھ افراد کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

کابل: عیدالاضحیٰ کی نماز کے وقت افغان صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے، نمازی خوفزدہ نظر آئے

راکٹ کی آواز آنے پر کئی نمازی خوف میں مبتلا نظر آ رہے ہیں، جبکہ وہاں موجود سیکورٹی اہلکار ممکنہ خطرے کے پیش نظر فوری طور پر پوزیشن سنبھالتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ راکٹ شہر کے شمالی حصے سے داغے گئے۔ تاحال ان سے ہونے والے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔


بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حملے میں تین راکٹ داغے گئے، راکٹ حملوں کی آواز سے کئی نمازی ڈر گئے، علاقے کو سیکورٹی اہلکاروں نے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ نماز عید کے بعد صدر اشرف غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کا اتحاد ہی ان کی طاقت ہے۔

جنگ زدہ افغانستان سے امریکہ سمیت دوسرے ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم، تازہ جنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد کابل میں راکٹ حملوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ جس علاقہ میں یہ راکٹ داغے گئے وہ سیکورٹی کے لحاظ سے حساس علاقہ ہے اور یہاں صدارتی محل کے علاوہ امریکہ سمیت دیگر کئی ممالک کے سفارت خانے موجود ہیں۔


افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان میر واعظ ستانک زئی کے مطابق یہ راکٹ شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر گرے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ تینوں راکٹ ایک پک اپ ٹرک سے داغے گئے ہیں اور ان سے کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 20 Jul 2021, 11:41 AM