آسام میں مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی ’پاپولیشن آرمی‘ کے ذریعے کم کریں گے، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا اعلان

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی میں بیان دیا کہ ریاست میں ایک ’پاپولیشن آرمی‘ ہوگی جو مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی کو قابو میں کرنے کے لئے کام کرے گی

 آسام  حکومت میں وزیر اور بی جے پی پارٹی کے سینئرلیڈر ہیمنت بسو شرما
آسام حکومت میں وزیر اور بی جے پی پارٹی کے سینئرلیڈر ہیمنت بسو شرما
user

قومی آوازبیورو

گوہاٹی: آسام میں آبادی کو قابو میں کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی میں بیان دیا کہ ریاست میں ایک ’پاپولیشن آرمی‘ (آبادی فوج) ہوگی جو مسلم اکثریتی علاقوں کی آبادی کو قابو میں کرنے کے لئے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاپولیشن آرمی مسلم اکثریتی علاقوں میں مانع حمل ذرائع تقسیم کرے گی اور آبادی کو کم کرنے کے لئے بیداری بھی پیدا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار افراد پر مشتمل اس فوج کو آسام کے ذیلی علاقوں میں بھیجا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ آسام ہیمنت بسوا سرما کے متنازعہ پاپولیشن کنٹرول کی تجویزات پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اتر پردیش سمیت دیگر بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستیں بھی اسی طرح کے اقدام اٹھا رہی ہیں۔ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ ریاست کے مغربی اور وسطی حصوں میں آبادی کی صورت حال دھماکہ خیز ہو چکی ہے۔


انہوں نے کہا، ’’آبادی کو قابو میں کرنے کے اقدامات کے تئیں بیداری پیدا کرنے اور مانع حمل ذرائع کی فراہمی کے لئے چار چاپوری کے تقریباً ایک ہزار نوجوانوں کو مامور کیا جائے گا۔ ہم آشا ورکرز (خاتون طبی کارکنان‘ کی ایک علیحدہ ٹیم بھی تشکیل دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جنہیں خاندانی منصوبہ بندی کے تئیں بیداری پیدا کرنے اور مانع حمل ذرائع تقسیم کرنے کا کام سونپا جائے گا۔‘‘

دریں اثنا، ہیمنت بسوا سرما نے ایک مرتبہ پھر آبادی کے بے تحاشہ اضافہ کے لئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا، ’’2001 سے 2011 تک آسام میں ہندؤوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح 10 فیصد تھی تو مسلمانوں میں یہ شرح 29 فیصد تھی۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’کم آبادی ہونے کے سبب ہندؤوں کی رہائشیں عالیشان ہوئی ہیں اور انہیں گاڑیاں بھی میسر ہو رہی ہیں۔ نیز ان کے بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔