آبنائے ہرمز میں نصب بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں لگیں گے 6 ماہ، پینٹاگون کی خفیہ بریفنگ میں انکشاف

پینٹاگون نے امریکی اراکین پارلیمنٹ کو خفیہ بریفنگ کے ذریعہ انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی ایرانی مائنس کو ہٹانے میں تقریباً 6 ماہ لگ سکتے ہیں، اس لیے ہرمز کی جلد بحالی ممکن نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جرمنی کا آبنائے ہرمز میں امریکی مشن کا حصہ بننے سے انکار، امریکی تنقید</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور امریکہ کے درمیان خواہ عارضی جنگ بندی چل رہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پلک جھپکتے ہی حالات معمول پر آ جائیں گے۔ خاص طور پر دنیا کی سب سے بڑی آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کی صورتحال طویل عرصہ تک متاثر رہ سکتی ہے۔ امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ ہرمز میں بچھائے گئے مائنس کو ہٹانے میں تقریباً 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے جس سے عالمی توانائی سپلائی چین اور قیمتوں پر بڑا اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔

پینٹاگون نے امریکی اراکین پارلیمنٹ کو اطلاع  دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے معمول کی آمد و رفت فوری طور پر بحال نہیں ہو پائے گی۔ ایرانی فوج کے ذریعہ ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں تقریباً 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ طور پر اچانک ایران پر حملہ کئے جانے کے بعد تہران کی طرف سے جوابی کارروائی سے ہی اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدو رفت متاثر ہے۔


امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کے لیے منعقد ایک خفیہ بریفنگ میں پینٹاگون نے یہ اندازے شیئر کئے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سرنگوں کو ہٹانے میں طویل وقت لگے گا جس سے فی الحال توانائی کی قیمتوں سے راحت ملنے کا امکان کم ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات تک پٹرول اور تیل کی قیمتوں میں تیزی برقرار رہ سکتی ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ ایرانی فوج نے ہرمز میں بڑے پیمانے پر باردوی سرنگیں بچھائی ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لیے تقریباً 6 ماہ کا وقت چاہئے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان پوری طرح جنگ ختم نہیں ہوتی ہے تب تک ان سرنگوں کو ہٹانے کی مہم شروع کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس جنگ کا اقتصادی اثر سال کے آخر تک یا اس سے بھی آگے تک جاری رہ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے منگل کے روز ’ہاؤس آرمڈ سروسیز کمیٹی‘  کے ممبران کو یہ بریفنگ دی۔ یہ پہلی بار ہے جب امریکی افسران نے آبنائے ہرمز میں باردوی سرنگوں اور ان کے اثرات کے حوالے سے اتنی تفصیلی معلومات شیئر کی ہے۔ اس انکشاف کے بعد امریکی اراکین پارلیمنٹ نے تشویش اور مایوسی ظاہر کی ہے خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں پر اس  کے اثرات کے حوالے سے سبھی فکر مند نظر آرہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔