اسرائیل اور لبنان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع، واشنگٹن میں فریقین کے درمیان ہوا اہم فیصلہ
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح طور پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت یہیں نہیں رکے گی۔ اس امن معاہدے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات کا ایک اور دور 2 اور 3 جون کو شروع ہوگا۔

مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے حوالے سے ایک اطمینان بخش خبر سامنے آئی ہے۔ اسرائیل اور لبنان نے اپنے درمیان جاری کشیدگی اور تنازع کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اپنی جنگ بندی (سیز فائر) میں مزید 45 دن کی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اہم قدم امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس کے بعد اٹھایا گیا۔
اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان واشنگٹن میں مسلسل 2 روز سے مسلسل مذاکرات چل رہے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات ’’بہت نتیجہ خیز اور کامیاب‘‘ رہے۔ اسی کامیاب بات چیت کے بعد جمعہ کو یہ طے ہوا کہ اتوار کو ختم ہو رہی جنگ بندی میں اب 45 دنوں کی توسیع کی جائے گی۔ لبنان کے مزاحمتی گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی ابھی انتہائی نازک حالت میں تھی، جس کے ٹوٹنے کا بڑا خطرہ تھا۔ اب اس نئے فیصلے سے فریقین کو امن برقرار رکھنے اور مزید بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے کافی وقت مل گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر اس بڑے فیصلے سے باضابطہ طور پر دنیا کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں 2 روزہ مذاکرات بہت مثبت اور درست سمت میں رہے جس کا براہ راست نتیجہ یہ 45 روزہ جنگ بندی ہے۔ ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ پرانی جنگ بندی اتوار کو ختم ہونے والی تھی اور دوبارہ جنگ بھڑک سکتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
اس 45 روزہ جنگ بندی کو حتمی فیصلہ نہیں مانا جارہا ہے بلکہ یہ ایک نئی شروعات ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت یہیں نہیں رکے گی۔ اس امن معاہدے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات کا ایک اور دور 2 اور 3 جون کو شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ اس امن کے وقت کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان تمام تنازعات کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے میں کیا جائے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پہلی بار 16 اپریل 2026 کو امریکی ثالثی میں ہی عمل میں آئی تھی۔ یہ 10 روزہ جنگ بندی تھی جس کے اختتام پر 3 ہفتوں کی توسیع کی گئی تھی۔ جس کے بعد سے امریکہ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے جس میں امریکی وزارت خارجہ نے کلیدی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو مزید 45 دن کی توسیع پر راضی کرلیا۔
یوں تو جنگ بندی 16 اپریل سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود لبنان اور اسرائیل میں جھڑپیں مکمل طور پر نہیں رک سکی ہیں۔ اسرائیل مسلسل حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کرتا رہا جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی راکٹ اور ڈرون حملوں ہوتے رہے۔ لبنان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرنا چاہیے اور حملے بند کرنے چاہئیں جبکہ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ پہلے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں حزب اللہ نے اب تک براہ راست شرکت نہیں کی ہے اور غر مسلح ہونے سے بھی انکار کیا ہے حالانکہ وہ لبنانی پارلیمان کا حصہ بھی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
