اسرائیلی سفیر نے لبنانی ہم منصب سے مذاکرات کو بتایا ’شاندار‘، جنگ بندی سے فی الحال انکار

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ہمارے لوگ صبح اُٹھ کر سرحد پار میزائلیں داغنے کی سوچ نہیں رکھتے، حملوں کو روکا جائے گا۔ ہم حزب اللہ کو اپنی آبادی والے علاقوں پر مسلسل میزائل فائر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہی کا منظر (فوٹو سوشل میڈیا)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ میں شروع ہوئے مذاکرات ختم ہوگئے ہیں جس میں وہاں تعینات دونوں ممالک کے سفرا شامل ہیں۔ حالانکہ اس ملاقات کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی تاہم امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیل لیٹر نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی عزم ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں لبنانی سفیر نَدا حمادہ معوذ کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’شاندار دو گھنٹے کی گفتگو‘ بتایا۔ یخیل لیٹر نے کہا کہ جہاں تک جنگ بندی کا تعلق ہے... ہم صرف ایک ہی چیز سے نمٹ رہے ہیں۔ میں نے یہ بہت واضح کردیا ہے کہ ہم اسرائیل کے باشندوں کی حفاظت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی اور لبنانی حکومتیں حزب اللہ کے حوالے سے عملی طور پر ایک طرف ہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان رسمی اور دوستانہ تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔

حالانکہ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ پہلے کبھی اتنی کمزور نہیں تھی جتنی اب ہے۔ یخیل لیٹر نے مزید کہا کہ اسرائیلی لوگ صبح اُٹھ کر سرحد پار میزائلیں داغنے کی سوچ نہیں رکھتے۔ ہمارے شہریوں پر میزائلیں داغی جا رہی ہیں- اسے روکا جائے گا۔ ہم حزب اللہ کو اپنی آبادی والے علاقوں پر مسلسل میزائل فائر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔


یخیل لیٹر نے مزید کہا کہ بات چیت میں کئی تجاویز اور مشورے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق یہ تجاویز اپنی اپنی حکومتوں کے سامنے رکھیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے آنے والے ہفتوں میں دوبارہ واشنگٹن میں ملاقات کریں۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان ان امن مذاکرات کی شروعات ہوئی ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان عارضی (کمزور) جنگ بندی نافذ ہے جسے صرف ایک ہفتہ ہی ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں  امریکہ میں تعینات سفیر اسرائیلی سفیر یخیل لیٹر اور لبنانی سفیر نَدا حمادہ معوذ کے ساتھ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔ محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مذاکرات بند کمرے میں ہوئے البتہ بات چیت سے قبل فریقین کے سفیر میڈیا سے کچھ دیر گفتگو بھی کی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے متعلق تفصیلات میڈیا کو جلد ہی پیش کی جائیں گی۔ خیال رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 2 ہفتے کی جنگ بندی کے پہلے ہی روز اسرائیل نے لبنان پر اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملے کیے تھے۔


اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان ملاقات کی قیادت کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق امن عمل کے لیے ایک فریم ورک تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس ملاقات کو’تاریخی موقع‘ قرار دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ اس کوشش کا مقصد حزب اللہ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کئی دہائیوں سے جاری عدم استحکام کو دور کرنا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔