ایک طرف جنگ بندی جاری، دوسری طرف اسرائیل نے ایئر اسٹرائیک میں حزب اللہ چیف کے بھتیجا کو مارنے کا کیا دعویٰ

اسرائیل کے ذریعہ لبنان پر حملہ کیے جانے کی ایران نے شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی افسران کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہوئی جنگ بندی میں لبنان کو شامل کیا جانا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ضرور بن گیا ہے، لیکن اسرائیل کا لبنان پر حملہ جاری ہے۔ جنگ بندی کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان واقع حزب اللہ کے ٹھکانوں پر زوردار ائیر اسٹرائیک کیا، جس نے تباہی مچا دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ چیف نعیم قاسم کے بھتیجے علی یوسف ہلاک ہو گیا ہے۔ حالانکہ حزب اللہ کی طرف سے ابھی تک اس معاملہ میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان کے بیروت میں بڑی آبادی والے کئی علاقوں پر ہوائی حملے کیے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان حملوں میں 182 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ کے دوران ایک دن میں ہوئی موت کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اسرائیلی حملوں میں 890 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک لبنان میں اسرائیلی حملے میں 1739 لوگ مارے گئے ہیں اور 5873 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔


اسرائیل کے ذریعہ لبنان پر حملوں کی ایران نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایرانی افسران کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہوئی جنگ بندی میں لبنان کو شامل کیا جانا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی حملہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران-امریکہ جنگ بندی کی شرطیں واضح اور صاف ہیں۔ امریکہ کو یا تو جنگ بندی کا انتخاب کرنا ہوگا یا اسرائیل کے ذریعہ سے جنگ جاری رکھنا ہوگا۔ وہ دونوں ایک ساتھ نہیں کر سکتا۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ لبنان پر حملہ کے بعد ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔ بدھ کے روز اسرائیل نے لبنان پر حملہ کے بعد ہی صاف کر دیا تھا کہ جنگ بندی معاہدہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اس کی لڑائی پر نافذ نہیں ہوتا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ایک نیوز چینل سے کہا کہ جنگ بندی معاہدہ میں لبنان کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ایک الگ جنگ بتایا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔