لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 دنوں کی جنگ بندی پر اتفاق، امریکی صدر ٹرمپ نے کیا اعلان
ٹرمپ نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل نے 34 سال میں پہلی بار واشنگٹن میں ہمارے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں ملاقات کی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لبنان-اسرائیل جنگ کے درمیان آج ایک انتہائی اہم جانکاری فراہم کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 دنوں کے لیے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد ممکن ہوا ہے۔ امریکی وقت کے مطابق یہ جنگ بندی شام 5 بجے سے نافذ ہوگی۔ جنگ بندی سے متعلق یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے لبنانیوں کی تعداد 2196 ہو گئی ہے۔
اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصہ سے جنگ جاری ہے۔ کشیدہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے لبنان اور اسرائیل نے منگل کے روز واشنگٹن میں دہائیوں بعد پہلی بار براہِ راست سفارتی مذاکرات کے لیے قدم بڑھایا۔ ٹرمپ نے اس تعلق سے کہا کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر مستقل امن کے قیام کے لیے کام کریں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے 34 سال میں پہلی بار واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ روبیو کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین رازن کین کے ساتھ مل کر اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مستقل امن قائم کرنے کے لیے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دنیا بھر میں 9 جنگوں کا خاتمہ میرے لیے اعزاز کی بات رہی ہے، اور یہ میری دسویں جنگ بندی ہوگی۔‘‘
ٹرمپ کے مطابق وہ اسرائیل اور لبنان کے لیڈران کی وہائٹ ہاؤس میں میزبانی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جسے انھوں نے دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان پہلی کامیاب بات چیت قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون کو وہائٹ ہاؤس میں مدعو کر رہا ہوں، جو 1983 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا بامعنی مذاکرہ ہوگا، جو بہت طویل مدت ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقین امن چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ جلد ہی ہوگا۔
دوسری طرف لبنان کے صدر جوزف عون کے دفتر نے ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران صدر عون نے لبنان میں جنگ بندی کرانے اور مستقل امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعہ کی جا رہی کوششوں کے لیے ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کوششوں سے اس خطہ میں امن کا عمل آگے بڑھانے کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے ملک میں ہوئی اس پیش رفت کا استقبال کیا ہے اور حالیہ کشیدگی سے متاثر کنبوں کے تئیں ہمدردی ظاہر کی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔