فرقہ وارانہ تشدد کی جانچ کا کام جلد ہی مکمل کیا جائے گا: اٹارنی جنرل بنگلہ دیش

رانا داس گپتا نے کہا ہے کہ 13 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان ہوئے حملوں میں اقلیتوں کے 117 مندروں اور 310 رہائش گاہوں اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا

Getty Images
Getty Images
user

یو این آئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے اٹارنی جنرل اے ایم امین نے کہا ہے کہ حالیہ ہندو برادری پر ہوئے حملوں کے معاملے میں گرفتار ملزمان کے کیس کی جانچ کا کام جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا اورکوئی بھی بنایا جانے والا نیا قانون جانچ کے عمل میں تاخیر کرے گا۔

قبل ازیں بنگلہ دیش ہندو بدھ کرسچن یونٹی کونسل (ایچ بی سی یو سی) نے اعلان کیا تھا کہ درگا پوجا کے دوران 13 اکتوبر کو ہندو مندروں اور املاک کو نشانہ بنا کر کئے گئے حملے کے خلاف 13 نومبر کو ملک بھر میں ایک زبردست مظاہرے ’دھکار مشیل‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔


ایچ بی سی یو سی کے جنرل سکریٹری رانا داس گپتا نے کہا ہے کہ 13 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان کئے گئے ان حملوں میں اقلیتوں کو 27 اضلاع میں کافی نقصان پہنچا ہے، ان حملوں میں 117 مندروں اور 310 رہائش گاہوں اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اپوزیشن کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مشیر خنداکر عبدالمقتدر نے یو این آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں حکمراں عوامی لیگ کے اس بیان پر تنقید کی ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے بی این پی نے ان واقعات کو انجام دیا تھا۔ انہوں نے حکمران جماعت کو ہندوؤں کے خلاف ظلم و ستم کے واقعات کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔