امریکی انتخابات میں 57 مسلم امیدواروں نے لہرایا فتح کا پرچم

امریکہ میں منتخب مسلم امیدوار اور ان کے ساتھ دیانت دار و ذمہ دار میڈیا مل کر اسلام کے تعلق سے پھیلی کئی غلط فہمیوں کو دُور کرسکتے ہیں۔

تصویر بشکریہ مِڈل ایسٹ آئی
تصویر بشکریہ مِڈل ایسٹ آئی
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ کے جنرل الیکشن میں حصہ لینے والے مسلم امریکی امیدواروں میں نصف سے زائد نے کامیابی حاصل کی ہے جو امریکی انتخابات کی تیاری میں نمایاں تبدیلی ہے۔ مسلم گروپوں نے مشترکہ سروے میں کہا کہ 110 مسلم امریکیوں نے مختلف عہدوں کے لئے انتخاب لڑا جن میں سے 57 کامیاب ہوئے۔

کونسل برائے امریکی اسلامی تعلقات، جیٹ پیاک اور ایم پاور چینج نے 3 نومبر کے صدارتی انتخاب کے بعد یہ تفصیلات پیش کی ہیں۔ 24 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں پھیلی ہوئی مختلف نشستوں کے لئے مسلم امیدواروں نے مسابقت کی اور یہ تعداد 2016ء کے بعد سے اعظیم ترین ہے۔ 57 کامیاب امیدواروں میں سے 7 نے اپنے متعلقہ ریاستی عہدوں کے لئے منتخب ہو کر تاریخ بنائی۔ ان عہدوں پر پہلے کبھی کوئی مسلم امیدوار منتخب نہیں ہوا تھا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں 435 نشستیں ہیں اور ایوان بالا (سینیٹ) کی 100 سیٹیں ہیں۔

جیٹ پیاک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد مسوری نے بتایا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کلیدی تبدیلی ہے جو بڑھتے اور پرتشدد اسلاموفوبیا کو ذائل کرنے میں مدد دے گی۔ منتخب مسلم امیدوار اور ان کے ساتھ دیانت دار و ذمہ دار میڈیا مل کر اسلام کے تعلق سے پھیلی کئی غلط فہمیوں کو دُور کرسکتے ہیں۔ اسٹیٹ الیکشن میں منتخب 11 مسلم امیدوار ماری ٹرنر، مدینہ ویلسن۔ اینٹن، امام جودہ، سامبا بالدہ، کریس بنجامن، فادی قدورہ، ہودھان حسن، محمد نور، عمر فتح، ابراہیم عائشہ اور زہران ممدانی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Nov 2020, 7:11 PM
next