غزہ میں کیسی گزر رہی بقرعید؟ خواب اور خوشیاں کھنڈرات میں تبدیل، والدین بچوں کے لیے معمولی چیز بھی خریدنے سے قاصر

غزہ میں اس بار بقرعید کی خوشیوں کی جگہ ہر طرف جنگ کی تباہی کے مناظر ہی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ہر جگہ کی طرح فلسطین کے تاریخی شہر غزہ میں بھی بقرعید خوشیوں، نئے کپڑوں، قربانی اور مٹھائیوں کا تیوہار ہوا کرتا تھا۔ بچے نئے کپڑے پہنتے تھے، گھروں میں مامول اور کاک جیسی مٹھائیاں تیار ہوتی تھیں اور ہر طرف رونق نظر آتی تھی، لیکن اسرائیلی درندگی کے بعد حالات اس قدر نا گفتہ بہ ہیں کہ لوگ صرف بازار جا کر چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں، خرید نہیں سکتے۔ لگاتار اسرائیلی حملے، مہنگائی اور تباہی نے غزہ کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ لاکھوں لوگ اب بھی اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس بار بقرعید غزہ میں تہوار کم اور جنگ کی تباہی کا زیادہ منظر پیش کر رہی ہے جہاں والدین اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہے ہیں۔

فلسطینی خاتون نادیہ ابو شمالہ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے کہا کہ ’’میں بازار صرف دیکھنے جاتی ہوں کیونکہ میرے پاس خریدنے کی سکت نہیں ہے۔ جب بھی قیمت پوچھتی ہوں، دل ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘ غزہ کے شمال سے بے گھر ہو کر پچھلے 2 سال سے وسطی غزہ کے دیرالباح میں رہ رہی 40 سال کی نادیہ نے کہا کہ اس سال بقرعید میں وہ خوشی نہیں ہے جو کبھی غزہ میں ہوا کرتی تھی۔ جنگ، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات تک پوری نہ کر پانے کی وجہ سے تہوار پھیکا پڑ گیا ہے۔


<div class="paragraphs"><p>فوٹو سوشل میڈیا</p></div>

فوٹو سوشل میڈیا

Admin

بتا دیں کہ اکتوبر 2025 میں امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی شروع ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے اب بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ میں غزہ کی 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر لوگ اپنی بنیادی ضروریات کے لئے امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ زمینی سطح پر کام کر رہے ایک این جی او کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں آنے جانے کے تمام راستوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ غیر ملکی امداد اور ذاتی سامان والے ٹرکوں کو بہت کم تعداد میں اندر آنے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی اور سامان کی قلت دور نہیں ہو پا رہی ہے۔

غزہ میں رہنے والے ابو عبد اللہ ال موسادر نے کہا کہ ’’یہ جنگ بندی ایک بڑا جھوٹ ہے لیکن پھر بھی ہم بچوں کے اندر خوشی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ 59 سال کے موسادر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ  مل کر تقریباً 13 ہزار شیکل (اسرائیلی کرنسی) یعنی تقریباً 4.4 لاکھ روپئے جمع کئے تاکہ قربانی کے لیے ایک بھیڑ خریدی جا سکے۔ غزہ میں بہت کم لوگ اتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں۔ موسادر نے کہا کہ ’’مجھے پتا ہے کہ یہ بہت مہنگا ہے لیکن میں نے اس سال قربانی کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘


قربانی سنت ابراہیمی ہے اور اس میں بھیڑ کی قربانی سب سے اہم مانی جاتی ہے، لیکن چھوٹے سے غزہ میں اب باہر سے جانور نہیں آ پا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور زرعی ادارہ کے مطابق جنگ سے پہلے جتنی بھیڑیں تھیں، اب ان میں سے صرف ایک چوتھائی بچی ہیں۔ یعنی 21 لاکھ آبادی والے غزہ میں اب تقریباً 15 ہزار بھیڑیں ہی بچی ہیں۔

غزہ کی وزارت زراعت کے ترجمان رفعت اسالیا نے کہا کہ اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ کم سپلائی، مویشی پروری کا بڑھتا خرچ، چارے اور ٹرانسپورٹ کی مہنگائی اور فارموں کا بند ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھیڑ یا بکری جنگ سے پہلے تقریباً 1000 شیکل میں ملتی تھی، اس کی قیمت اب 11000 سے 15000 شیکل تک پہنچ گئی ہے۔‘‘ غزہ میں گیس کی شدید قلت کی وجہ سے گھر میں کھانا پکانا اور بیکنگ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ جنوبی غزہ میں اہل خانہ کے ساتھ پناہ گزیں ابو احمد وافی نے کہا کہ ’’بازاروں میں کاک، مامول اور مٹھائیاں تو ہیں لیکن پہلے ہم انہیں گھر پر بنایا کرتے تھے۔ جنگ کے سبب اب چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں اور تیار کرنے کے لیے گیس بھی نہیں ہے۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔