تجارتی معاہدے سے پہلے یورپی یونین نے دیا دھچکا، ہندوستانی اشیاء پر 20 فیصد ٹیرف میں کردیا اضافہ
ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے (ایف ٹی اے) پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ اس دوران یورپی یونین نے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنس (جی ایس پی) کے فوائد روک کر ہندوستان کو بڑا دھچکا دیا ہے۔

ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ توقع ہے کہ 27 جنوری تک اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی جس کا دونوں ممالک طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس دوران ایک اور بڑی خبر سامنے آ رہی ہے جو ہندوستان کے لیے بڑا جھٹکا مانی جارہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق یورپی یونین نے کچھ ہندوستانی اشیاء پر برآمدی فوائد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے تحت یورپی یونین (ای یو) کو ہونے والی زیادہ تر ہندوستانی برآمدات پر محصولات میں 20 فیصد اضافہ ہو جائے گا کیونکہ ای یو یکم جنوری سے نافذ العمل جنرلائزڈ سسٹم آف پرفرنسز (جی ایس پی) کے تحت دی گئی چھوٹ واپس لے رہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ ہندوستان پر یہ اثر زیادہ دیر تک رہنے والا ہے کیونکہ یورپی یونین کے ساتھ ایف ٹی اے پر دستخط ہوتے ہی جی ایس پی ،ایف ٹی اے کی جگہ لے لے گا۔ مگر یہاں تشویش کی بات یہ ہے کہ ایف ٹی اے کے فوائد ملنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ جی ایس پی کی واپسی کا حکم 25 ستمبر کو جاری کیا گیا تھا۔ یورپی یونین نے اس سال یکم جنوری سے تقریباً 87 فیصد ہندوستانی اشیا پر جی ایس پی ٹیرف کی ترجیحات واپس لے لی ہیں، جس سے اب زیادہ ترسامانوں کو پورے ایم ایف این ڈیوٹی ریٹ پر انٹری کرنا ہوگی۔
اس دوران فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (ایف آئی ای او) کے سی ای او اور ڈائریکٹر جنرل اجے سہائے نے کہا کہ جی ایس پی کی واپسی نے واضح طور پر یورپی یونین تک پہنچنے والے ہندوستانی سامان کو بنگلہ دیش اور ویت نام جیسے سپلائرز کے مقابلے میں کم مسابقتی بنا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا صنعتی برآمدات پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہے جس میں معدنیات، کیمیکل، پلاسٹک، لوہا، اسٹیل، مشینری اور الیکٹریکل سامان شامل ہیں جو ای یو کو ہندوستان کے بھیجی جانے والی ترسیل کا ایک بڑا حصہ ہے اور اب مکمل طور پر ایم ایف این ٹیرف کے دائرے میں آگئے ہیں۔
بتادیں کہ جی ایس پی ایک اسکیم ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک اپنی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ترقی پذیر ممالک سے منتخب اشیا پر کم یا صفر ٹیرف لگاتے ہیں۔ وزارت تجارت اور صنعت کا کہنا ہے کہ 2016 سے یورپی یونین ہندوستانی اشیاء کو جی ایس پی فوائد سے بتدریج خارج کرتی آرہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب اس اسکیم کے تحت زرعی مصنوعات اور لیدر سمیت 13 فیصد ہندوستانی برآمدات کو ہی فائدہ ملے گا۔ مالی سال 2025 سے ہندوستان سے ای یو کو بھیجے جانے والے تقریباً 47 فیصد (35.6 ارب ڈالر) سامان ابھی بھی جی ایس پی جوائدے کے دائرے میں آتے ہیں۔ جبکہ ایکسپورٹ کا 53 فیصد (40.2 ارب ڈالر) ابھی بھی جی ایس پی کے تحت آتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔