’آزاد تجارتی معاہدہ‘ سے قبل یورپی یونین نے ہندوستان کو دیا جھٹکا، 87 فیصد برآمدات پر ٹیکس کی چھوٹ ختم

یورپی یونین نے یکم جنوری 2026 سے 31 دسمبر 2028 تک ہندوستان، انڈونیشیا اور کینیا کے لیے مخصوص ٹیرف ترجیحات کو معطل کرنے کا قانون نافذ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان اور یورپی یونین، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کی بات چیت اپنے آخری مرحلے میں ہے، لیکن اس معاہدہ سے قبل ہی ہندوستانی برآمد کنندگان کو ایک بڑ جھٹکا لگا ہے۔ یکم جنوری کو یورپی یونین نے ہندوستان کے لیے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی) کے تحت ملنے والی اہم ٹیکس چھوٹ معطل کر دی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے اب یورپ جانے والے 87 فیصد ہندوستانی سامانوں پر زیادہ امپورٹ ڈیوٹی ادا کرنی ہوگی، جس کی وجہ سے عالمی بازار میں ہندوستانی مصنوعات کی قیمت پر اثر پڑے گا۔

یورپی یونین نے یکم جنوری 2026 سے 31 دسمبر 2028 تک ہندوستان، انڈونیشیا اور کینیا کے لیے مخصوص ٹیرف ترجیحات کو معطل کرنے کا قانون نافذ کیا ہے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو جی ایس پی ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپ میں سامان فروخت کرنے پر کم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یورپی یونین کے’گریجویشن رولز‘ کے مطابق جب کسی ملک کی برآمدات ایک خاص حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو اسے یہ چھوٹ ملنی بند ہو جاتی ہے۔ اس اصول کے تحت ہندوستان کی 87 فیصد مصنوعات سے یہ فائدہ واپس لے لیا گیا ہے۔ اب صرف 13 فیصد مصنوعات (بنیادی طور پر زراعت اور چمڑے کے شعبے) ہی اس چھوٹ کے دائرے میں رہیں گی۔


یورپی یونین کے اس فیصلے کا سب سے برا اثر ہندوستان کے ٹیکسٹائل، پلاسٹک، کیمیکلز، مشینری اور جیمس اینڈ جویلری سیکٹر پر پڑے گا۔ پہلے جس گارمنٹ (کپڑے) پر جی ایس پی کے تحت 9.6 فیصد ڈیوٹی لگتی تھی اب اس پر مکمل 12 فیصد ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ معدنیات، کیمیکلز، ربڑ، پتھر، سیرامکس، قیمتی دھاتیں، لوہا، اسٹیل اور الیکٹریکل گڈز جیسے بڑے صنعتی شعبے اب مکمل طور پر ٹیکس کے دائرے میں آگئے ہیں۔ فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی ای او) کے ڈائریکٹر جنرل اجے سہائے کے مطابق ہندوستانی برآمد کنندگان کو پہلے اوسطاً 20 فیصد کا ٹیرف فائدہ حاصل ہوتا تھا، جو اب ختم ہو گیا ہے۔

گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو (جی ٹی آر آئی) کے بانی اجے سریواستو نے اسے بڑا جھٹکا قرار دیا ہے۔ تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کو اب بھی یورپ میں ڈیوٹی فری (صفر ٹیکس) یا کم ڈیوٹی کا فائدہ مل رہا ہے۔ ہندوستانی مال مہنگا ہونے کی وجہ سے یورپی خریدار ان ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، خاص طور پر کپڑے (گارمنٹس) جیسے قیمت کے لحاظ سے حساس شعبوں میں ہندوستان اپنی گرفت کھو سکتا ہے۔


واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان اور یورپی یونین 27 جنوری کو ایف ٹی اے مذاکرات مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایف ٹی اے نافذ ہونے میں کم از کم ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے میں جب تک ایف ٹی اے نافذ ہوتا ہے ہندوستانی برآمد کنندگان کو زیادہ ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جی ایس پی کا ختم ہونا اور اسی وقت یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) ٹیکس کا شروع ہونا، برآمد کنندگان کے لیے دوہری مصیبت لے کر آیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین ہندوستان کا سب سے  بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جس کے ساتھ 25-2024 میں 136.53 ارب ڈالر کا تجارت ہوا تھا۔ لیکن جی ایس پی ہٹنے سے ہندوستانی برآمدات جو پہلے سے ہی نازک عالمی حالات کا سامنا کر رہی ہیں، اب اعلی تعمیل لاگت (کمپلائنس کاسٹس) اور کمزور مسابقت کے بھنور میں پھنس گئی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔