چین: علاج کے دوران کورونا وائرس مریض کی رنگت تبدیل

معالجین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھی کو دوران علاج اینٹی بایوٹک دوائیں دیں، یہی دوا عام مریضوں کو بھی دی جاتی ہیں، البتہ جب ویفینگ نے یہ دوا کھانی شروع کی تو اُن کی رنگت تیزی سے تبدیل ہوگئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بیجنگ: کورونا وائرس کے مرکز چین میں کورونا سے متاثر ہونے والے ڈاکٹر کی جلد کا رنگ علاج کے دوران مکمل طور پر تبدیل ہوگیا۔ چین سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ ڈاکٹر ہو ویفینگ کو جنوری 2020 میں کورونا کی تشخیص ہوئی جس کے بعد انہیں علاج کے لیے اسپتال لایا گیا۔ اہل خانہ ڈاکٹر کو اسی اسپتال لے کر آئے جہاں وہ ملازمت کرتے تھے، وہ پانچ ماہ تک زیر علاج رہے اور گزشتہ روز کورونا وائرس کی جنگ میں زندگی کی بازی ہار گئے۔

ڈاکٹرز کے مطابق پانچ ماہ کے دوران ڈاکٹر ہو ویفینگ کی رنگت گوری تھی جو کہ علاج کے دوران بالکل سیاہ ہوگئی، علاج کے دوران اُن کی رنگت تبدیل ہونے کی وجہ دوا کا انفیکشن بتایا جا رہا ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھی کو دوران علاج اینٹی بایوٹک دوائیں دیں، یہی دوا عام مریضوں کو بھی دی جاتی ہیں، البتہ جب ویفینگ نے یہ دوا کھانی شروع کی تو اُن کی رنگت تیزی سے تبدیل ہوگئی۔

پانچ ماہ تک زیر علاج رہنے والے ڈاکٹر کی گزشتہ ہفتہ طبیعت شدید بگڑ گئی تھی جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا تھا اور وہ مشین کے ذریعہ ہی سانس لے پا رہے تھے۔ جس اسپتال میں ڈاکٹر ہو ویفینگ کی موت ہوئی ہے وہاں انہوں نے کئی سال ملازمت کی اور وہ کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

Published: 3 Jun 2020, 1:40 PM