’گلوان میں جھڑپ کے بعد چین نے کیا خفیہ جوہری تجربہ‘، بیجنگ پر امریکہ نے لگائے سنگین الزام

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور روس کے درمیان آخری جوہری اسلحہ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہوا اور صدر ٹرمپ مستقبل میں کسی بھی جوہری معاہدے میں چین کو شامل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>چین کے صدر شی جن پنگ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

چین نے 2020 میں ایک خفیہ جوہری تجربہ کیا تھا۔ یہ واقعہ وادی گلوان میں ہندوستان کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے چند دن بعد اور ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب دنیا کووڈ۔19 سے نبرد آزما تھی۔ یہ انکشاف امریکی نائب وزیر خارجہ تھامس ڈی نانو نے جمعہ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ الزامات ایسے وقت میں لگائے گئے ہیں جب امریکہ اور روس کے درمیان آخری جوہری اسلحہ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہوا اور صدر ٹرمپ مستقبل میں کسی بھی جوہری معاہدے میں چین کو شامل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

ڈی نانو نے’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے کہا کہ امریکہ کے پاس چین کے ذریعہ عالمی ایجنسیوںکی نظر سے بچنے کے لئے خفیہ جوہری تجربہ کرنے کی اطلاع ہے۔ سینئر امریکی افسر نے دعویٰ کیا کہ چین نے 22 جون 2020 کو بھی ایسا ہی ایک جوہری تجربہ کیا تھا۔ یہ مشرقی لداخ میں سرحدی تنازعہ کے درمیان وادی گلوان میں ہندوستانی اور چینی افواج کے درمیان جھڑپ کے صرف 7 دن بعد ہوا جو نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان سب سے خطرناک ٹکراؤ تھا۔


وادی گلوان میں ہوئی آمنے سامنے جھڑپ میں ہندوستان کے 20 فوجی شہید ہو گئے تھے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق چین نے کبھی بھی سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد ظاہر نہیں کی لیکن اس کے ہندوستان سے زیادہ فوجیوں کی موت ہوئی تھی۔دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہونے کے بعد ہی 2024 میں یہ تعطل ختم ہوسکا۔

اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین نے یہ خفیہ ایٹمی تجربہ ہندوستان کی سرحد سے متصل سنکیانگ کے علاقے لوپ نور کے مقام پر کیا۔ امریکی افسران نے کہا کہ چین نے ڈیکپلنگ نامی تکنیک کا استعمال کیا جس سے زلزلے کے سگنلز کا پتہ لگانا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیکپلنگ ایک ایسی تکنیک ہے جس میں زلزلہ کی لہروں کو دبانے کے لیے ایک بڑے زیر زمین گڑھے میں دھماکہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے ٹیسٹ کو چھپانے کا یہ ایک عام طریقہ ہے۔


امریکی افسر نے کہا کہ ان کی حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکہ خیز تجربے کئے ہیں جن میں سیکنڑوں ٹن کی مقررہ صلاحیت والے تجربات کی تیاری بھی شامل ہے۔ چین نے دنیا سے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے ڈیکپلنگ کا استعمال کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔