بنگلہ دیش: سابق چیف صلاحکار محمد یونس سمیت 27 کے خلاف شکایت درج، تشدد و آگ زنی کا سنگین الزام عائد

تمنا چودھری پرینکا نامی خاتون نے راجدھانی ڈھاکہ کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ محمد جوئل رانا کی عدالت میں عرضی داخل کی۔ عدالت نے اس معاملہ میں ان کا بیان درج کر لیا اور حکم کو زیر التوا رکھ دیا۔

<div class="paragraphs"><p>محمد یونس، فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

بنگلہ دیش میں حکومت سے ہٹنے کے بعد سابقہ عبوری حکومت کے چیف صلاحکار محمد یونس اور ان کے کئی قریبیوں کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔ ان پر ڈھاکہ کے دھان منڈی 32 واقع شیخ مجیب الرحمن میموریل میوزیم میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کا ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں محمد یونس اور سابق قانونی صلاحکار ڈاکٹر آصف نذرل سمیت 27 لوگوں کے خلاف عدالت میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔

’ڈھاکہ ٹریبیون‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق تمنا چودھری پرینکا نامی خاتون نے راجدھانی کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ محمد جوئل رانا کی عدالت میں عرضی داخل کی۔ عدالت نے اس معاملہ میں ان کا بیان درج کر لیا اور حکم کو زیر التوا رکھ دیا۔ دیگر ملزمین میں سابق عبوری حکومت میں صلاح کار ڈاکٹر رضوانہ حسن، سابق پریس سکریٹری شفیق العالم، سابق داخلی صلاحکار لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر عالم چودھری، ثقافتی امور کے صلاحکار مصطفیٰ سرور فاروقی، این سی پی کنوینر ناہد اسلام، ترجمان آصف محمود، سابق صلاحکار محفوظ عالم وغیرہ شامل ہیں۔


اس معاملہ میں داخل عرضی کے مطابق 5 فروری 2025 کو تقریباً 5 ہزار افراد دھان منڈی 32 میں غیر قانونی طریقے سے لاٹھیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اسلحوں سے لیس ہو کر پہنچے تھے۔ الزام ہے کہ یہ لوگ محمد یونس اور باقی ملزمین کی حمایت اور اکساوے کے سبب وہاں جمع ہوئے تھے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ گروپ رات تقریباً 10 بجے بلڈنگ میں گھسا، اس میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ ساتھ ہی وہاں موجود بیش قیمتی چیزوں کو لوٹ لیا۔

عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بلڈنگ کو منہدم کرنے کے لیے بلڈوزر، ہتھوڑے اور دیگر بھاری مشینیں لائی گئی تھیں۔ اگلے دن شام تقریباً 5 بجے تک وہ عمارت ملبہ میں تبدیل ہو گئی تھی۔ کچھ ملزمین نے توڑ پھوڑ، آگ زنی اور لوٹ پاٹ کو فروغ دینے کے لیے یوٹیوب اور فیس بک لائیواسٹریم کا استعمال کیا، جنھیں فنڈنگ کی گئی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملہ کے بارے میں پہلے سے اندیشہ ظاہر کیے جانے کے باوجود بلڈنگ کی سیکورٹی دیکھنے والوں نے احتیاطی قدم نہیں اٹھایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔