بنگلہ دیش کو بجلی کے ’بحرانِ عظیم‘ کا سامنا! رات 8 بجے بند ہو رہے مال-مارکیٹ، 16 گھنٹوں تک کٹ رہی بجلی
روزنامہ ’پرتھم آلو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش حکومت نے تمام روشن بل بورڈز کو شام 7.00 بجے تک بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام آرائشی لائٹنگ کو مکمل طور پر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پورے بنگلہ دیش میں بجلی کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ بجلی کی کٹوتی خوب ہو رہی ہے، اور ایسا لگ رہا ہے جیسے بجلی کٹوتی کا کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے۔ صبح، دوپہر، رات... کب بجلی چلی جائے کچھ پتہ نہیں۔ اگر ایک گھنٹے بجلی آتی ہے تو اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک نہیں آتی۔ مجموعی طور پر 24 گھنٹے میں کئی بار بجلی کی کٹوتی 16 گھنٹوں تک ہو جاتی ہے۔ بجلی بحران والے ان حالات پر بنگلہ دیش کے اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی کٹوتی کے درمیان حکومت نے نئے ضابطے نافذ کر دیے ہیں۔ ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مال اب رات 8 بجے تک ہی کھلے رہیں گے۔ ایسا بجلی کی قلت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ یعنی اب بنگلہ دیش میں دکانیں صبح 11 بجے سے لے کر رات 8 بجے تک ہی کھلی رہیں گی۔
اسی طرح روزنامہ ’پرتھم آلو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش حکومت نے تمام روشن بل بورڈز کو شام 7.00 بجے تک بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام آرائشی لائٹنگ کو مکمل طور پر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نئے اقدامات بدھ سے نافذ ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی بجلی، توانائی اور معدنی وسائل کی وزارت نے بدھ کی شام جاری کیے گئے ایک حکم میں ان فیصلوں کا اعلان کیا۔ حکومت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ملک بھر میں جاری اور آنے والے تجارتی میلوں اور ثقافتی پروگراموں کو رات 8.00 بجے تک ختم ہو جانا چاہیے۔ تاہم کھانے پینے کی دکانوں، اسپتالوں، فارمیسیز اور دیگر ضروری خدمات کو اس ہدایت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 11 جون کو دکانوں کو رات 9 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم، ملک کے مختلف حصوں میں موجودہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے 12 اگست کو یہ فیصلہ کیا گیا کہ 13 اگست سے ملک بھر کے تمام شاپنگ مال اور دکانیں رات 8 بجے تک بند کرنی ہوں گی۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 11 اگست کو بنگلہ دیش میں بجلی کی کٹوتی 3,007 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ ہے۔
بنگلہ دیش میں بجلی بحران والی حالت کے لیے کئی اسباب بتائے جا رہے ہیں۔ ایران-امریکہ جنگ بھی اس میں ایک بڑی وجہ ہے۔ اس جنگ کے بعد آبنائے ہرمز تقریباً بند پڑا ہے۔ ہرمز وہ راستہ ہے جہاں سے ہو کر عرب ممالک سے قدرتی گیس بنگلہ دیش آتی ہے۔ اسی گیس سے بنگلہ دیش بجلی بناتا ہے۔ گیس کی سپلائی نہ مل پانے کی وجہ سے بنگلہ دیش میں بجلی کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ اس بحران کے دوران مارچ میں ہندوستانی حکومت نے بنگلہ دیش کو تقریباً 5000 میٹرک ٹن ڈیزل بھیجا تھا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کی صورت حال میں کچھ بہتری آئی تھی۔ پڑوسی ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 33092 میگاواٹ ہے، لیکن ایندھن کی کمی کے باعث وہ اس کی صرف نصف مقدار ہی پیدا کر پاتا ہے۔
بنگلہ دیش میں استعمال ہونے والے ایندھن کا 65 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 9 فیصد حصہ بھی درآمد پر منحصر ہے۔ ایل این جی کی سپلائی تقریباً 3 ہفتوں سے متاثر ہے۔ اس سے گیس کا بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ درآمد شدہ بجلی کی سپلائی بھی کم ہو گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجلی کی کٹوتی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے بجلی اور توانائی کے شعبے درآمدات پر انحصار کے باعث بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں بجلی کی موجودہ زیادہ سے زیادہ طلب 18,500 میگاواٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ لیکن پیداوار کی صلاحیت 33092 میگاواٹ ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ سپلائی میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟ پاور سیکٹر سے وابستہ لوگوں نے اس کے پیچھے کچھ اہم وجوہات بتائی ہیں۔ ملک میں بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ گیس پر مبنی ہے۔ لیکن حال ہی میں مہیش کھالی میں واقع ایل این جی ٹرمینل میں مشینی خرابی کے باعث قومی گرڈ کو گیس کی سپلائی میں بھاری کمی آئی ہے۔ چونکہ طلب کے مقابلے میں گیس کی دستیابی بہت کم ہے، اس لیے گیس پر مبنی بجلی گھر پوری صلاحیت سے بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں سے ایک میں کوئلے کی سپلائی بھی متاثر ہے۔ باراپوکوریا جیسے بڑے کوئلے پر مبنی بجلی گھروں میں بھی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث پیداوار ٹھپ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
