بنگلہ دیش: موسمیاتی تبدیلی کے سبب 1.9 کروڑ بچوں کا مستقبل خطرے میں

رپورٹ کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ، چاڈ اور نائیجیریا میں بچوں کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے جبکہ اس معاملے میں بنگلہ دیش 15 ویں نمبر پر ہے۔

یونیسیف، تصویر آئی اے این ایس
یونیسیف، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں موسمیاتی تبدیلی کے وسیع اور منفی اثرات کے باعث ملک میں 1.9 کروڑ سے زائد بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اقوام متحدہ کے ایمرجنسی فنڈ برائے اطفال (یونیسیف) کی ایک رپورٹ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے جہاں کے باشندے سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی، ندیوں کے کٹاؤ سے اکثر متاثر ہوتے ہیں۔ ملک میں غریب طبقہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جیسے جیسے ہمالیہ کے گلیشیر پگھلتے ہیں اور سمندر کی آبی سطح میں اضافہ ہوتا ہے، بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں میں تباہ کن آفات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


رپورٹ کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ، چاڈ اور نائیجیریا میں بچوں کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے جبکہ اس معاملے میں بنگلہ دیش 15 ویں نمبر پر ہے۔ سمندر کی آبی سطح میں اضافے کی وجہ سے اس کی ایک تہائی آبادی بے گھر ہونے کا خطرہ ہے۔ بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں طوفان اور سیلاب اکثر آتے ہیں، جہاں تقریبا 25 فیصد آبادی ایسے ہی علاقوں میں رہتی ہے اور وہ قدرتی آفات سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔