افغان فوج اور اشرف غنی امریکی توقعات پر پورے نہیں اترے: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے خطاب کے بعد پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔

جین ساکی، تصویر آئی اے این ایس
جین ساکی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے افغان اور سابق افغانستانی صدر اشرف غنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے افغان فوج اور اشرف غنی امریکی توقعات پر پورا نہیں اترے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی سفارتی دفتر کھولا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس جین ساکی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے خطاب کے بعد پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی سفارتی دفتر کھولا جا رہا ہے، افغانستان سے نکلنے میں امریکیوں کو دوحہ سے مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو طالبان پر ہر سطح پر سبقت حاصل ہے اور افغان فوج اور اشرف غنی امریکی توقعات پر پورا نہیں اترے۔


یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کابل سے فوجیوں اور شہریوں کے خطرناک انخلا کا چیلنج پورا کیا۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ 30 ہزار افغان فوجیوں کو 20 سال میں تربیت دی، افغان جنگ کے خاتمے کا فیصلہ میں نے کیا، کابل کی سیکورٹی کے لیے 6 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔