عالمی آواز-6: کوئی بھی معاہدہ آنکھیں بند کر کے نہیں ہونا چاہیے... سید خرم رضا

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امن کے لئے ہر اقدام کا استقبال کیا جانا چاہیے لیکن آنکھیں بند کر کے نہیں اور نہ ہی دوسروں کا پیادہ بن کر۔ جو بھی ہو آنے والے دن خلیجی ممالک کے لئے اچھے نہیں ہیں۔

Getty Images
Getty Images
user

سید خرم رضا

کورونا طبی بحران کے دوران خطہ عرب میں زیادہ ہی سیاسی ہلچل نظر آرہی ہے اور جو سیاسی ہلچل وہاں نظر آرہی ہے وہ تاریخی نوعیت کی ہے۔ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں اچانک معاہدہ اور دوستی کی بات ہونے لگی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین سے تعلقات میں پیش رفت کے بعد جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ کئی اورعرب ممالک کے ساتھ بھی اسرائیل کے معاہدہ ہونے والے ہیں، وہیں اب یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ فلسطین کی تنظیم حماس اور اسرائیل کے بیچ بھی کوئی امن معاہدہ ہونے والا ہے۔ خلیجی ممالک کے رویہ میں جس طرح کی تبدیلی نظر آ رہی ہے اس کے بعد ایسی کسی بھی خبر سے حیرانی نہیں ہوتی۔

عام حالات میں اسرائیل اور حماس میں کسی بھی قسم کی مفاہمت سے حیرانی ہونا لازمی تھا لیکن جس طرح سے حالات نے کروٹ لی ہے، یایوں کہیے کہ جس طرح اسرائیل اور امریکہ نے اپنی بساط بچھائی ہے اس کے بعد اس سے کوئی حیرانی نہیں ہو رہی۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ان تمام معاہدوں سے جتنا فائدہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو ہونے والا ہے اس کا 25 فیصد بھی ان خلیجی ممالک کو نہیں ہونے والاہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ خلیجی ممالک کو آنے والے وقت میں بڑے نقصان کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے سیاسی حالات اپنے ممالک میں اچھے نہیں ہیں اور ان کی مقبولیت پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔

ان معاہدوں اور پیش رفت کے اوقات سے اس بات کا صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو اس وقت اس سیاسی پیش رفت کی اشد ضرورت تھی لیکن خلیجی ممالک نے ان قووتوں کے آگے گھٹنے کیوں ٹیک دیئے؟ اس کے پیچھے جہاں ان ممالک کے حکمرانوں کی خراب حکومت ہے وہیں ایران کا خوف بھی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کا خوف دکھا کر خلیجی ممالک سے کچھ بھی سودا کر سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک ہوں یا ایران، ان کو خطہ میں اپنے دبدبے کے آگے کچھ نظر نہیں آتا اور دونوں قووتوں کی کوشش بس یہ ثابت کرنے کی رہتی ہے کہ وہ نہ صرف طاقت ور ہیں بلکہ وہی مسلمانوں اور اسلام کے صحیح نمائندہ ہیں۔ ان کی اس کمزوری کا اسرائیل اور امریکہ ابھی تک فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور آگے بھی اٹھاتے رہیں گے۔

خلیجی ممالک کو جس 25 فیصد فائدہ کا ذکر ہوا ہے اس میں بس اتنا ہے کہ ان ممالک میں معاشی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی، جس کا زیادہ فائدہ مغرب کے ان سرمایہ داروں کو ہوگا جو ان ممالک میں پہلے خلیجی ممالک کی شرائط پرسرمایہ کاری کریں گے بعد میں حکومتوں اور شاہی گھرانوں کو بلیک میل کرکے اپنےحساب سے نہ صرف کاروبار کریں گے بلکہ اپنی مرضی کے قوانین مرتب کروائیں گے۔

اس 25 فیصد کے ظاہری فائدہ کے علاوہ خلیجی ممالک کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، بلکہ پورا نقصان ہونے والا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ خطہ میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ ان سب ممالک میں جب اسرائیلی اور مغربی ممالک کے سرمایہ دار سرمایہ کاری کریں گے تو ہرحالت میں حکومت میں بھی دخل اندازی کریں گے، کیونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سرمایہ دار کے لئے موافق حکومت بہت ضروری ہوتی ہے اور حکمراں کی کمزوری بہت ساری چیزوں کے ساتھ پیسہ بھی ہوتی ہے۔ اس لئے سرمایہ دار کو اپنی مرضی کے لوگوں کو اقتدار میں رکھنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔

مغربی سرمایہ داروں کے ساتھ ان کی حکومتیں بھی ان کی باہر سے مدد کرتی رہیں گی اور وہ ایران کے خوف کو نہ صرف زندہ رکھیں گی بلکہ اس کی بانگی بھی دکھاتی رہیں گی۔ یہ صورتحال ایران کے لئے بھی کئی پہلوؤں سے مفید ہوگی۔ ایران جہاں خلیجی ممالک کے خوف اور ان کی اسرائیل سے دوستی کو دکھا کر بنیادی مسائل اپنےعوام کی آنکھوں سے دور رکھ پائے گا وہیں دنیا کے مسلمانوں میں خود کو ان کا نمائندہ بتانے میں کامیاب رہے گا۔

جوصورتحال خلیجی ممالک میں ابھرتی نظر آ رہی ہے اس سے یہ اندازہ ہو رہا کہ آنے والے سالوں میں خطہ عرب میں کئی ممالک علاقائی قووتوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔ ان میں قطر، مصر، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ہوسکتے ہیں۔ خطہ میں جتنی زیادہ طاقتیں ہوں گی اس کا اتنا ہی فائدہ اسرائیلی اور مغربی قووتوں کو ہوگا۔ یہ ممالک اپنی طاقت کے اظہار کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ طاقت کے اس اظہار میں امریکہ اور اسرائیل کی اسلحہ بنانے والی کمپنیاں ان کی معاون ثابت ہوں گی۔ اسی کے ساتھ اس خطہ میں دہشت گردانہ سرگرمیاں زیادہ نظر آ سکتی ہیں۔ یعنی یہ علاقہ آنے والے سالوں کا پاکستان اور افغانستان ہو سکتا ہے، جس خطہ کو سویت یوین کی طاقت کے خاتمہ کے لئے میدان جنگ میں تبدیل کیا گیا تھا۔ آنے والے سالوں میں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے شاہ پاکستان کے جنرل ضیاالحق اور مولانا فضل رحمٰن کے کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امن کے لئے ہر اقدام کا استقبال کیا جانا چاہیے لیکن آنکھیں بند کر کے نہیں اور نہ ہی دوسروں کا پیادہ بن کر۔ جو بھی ہو آنے والے دن خلیجی ممالک کے لئے اچھے نہیں ہیں۔

next