عالمی آواز-5: صدر ٹرمپ کے ہر عمل سے امریکیوں کی ساکھ متاثر... سید خرم رضا

ٹرمپ اپنے مزاج اور کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ امریکہ اور پوری دنیا میں غیر مقبول ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود سفید فام قوم پرست امریکیو ں کے وہ آج بھی ہیرو ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

امریکہ میں اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ صدر ٹرمپ کے تعلق سے پوری دنیا میں اچھی رائے نظر نہیں آتی لیکن اس کے باوجود سفید فام امریکیوں میں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ 2014 کے صدارتی انتخابات میں ویسے تو ڈیموکریٹس کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو زیادہ امریکیوں نے ووٹ دیا تھا لیکن امریکی صدارتی نظام کے مطابق امیدوار کو 538 الیکٹورل کالج ووٹس میں سے 270 ووٹس حاصل کرنے ضروری ہیں اور یہ ریاستوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ٹرمپ کو زیادہ الیکٹورل ووٹس حاصل ہوئے تھے اس لئے وہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ یعنی امریکہ کی اکثریت نے سال 2014 میں بھی ٹرمپ کو زیادہ ووٹ نہیں دیئے تھے جبکہ عوام میں دس سالہ ڈیموکریٹس حکومت کے خلاف ناراضگی ہونی چاہئے تھی لیکن عوام میں براک اوبامہ کی مقبولیت اس وقت برقرار تھی۔

اس مرتبہ ابھی تک کے تمام سروے میں صدر ٹرمپ اپنے حریف ڈیموکریٹس کے جو بائڈن سے کافی پیچھے ہیں۔ ٹرمپ اپنے مزاج اور کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ امریکہ اور پوری دنیا میں غیر مقبول ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود سفید فام قوم پرست امریکیو ں کے وہ آج بھی ہیرو ہیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات سے قبل صدارتی امیدواروں کے بیچ ’ٹاؤن ہال‘ نامی ایک سوال جواب کا سیشن ہوتا ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں امریکہ اور پوری دنیا کے لوگوں کو امیدواروں کے ذہن اور مستقبل کی ان کی پالیسیوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ پوری دنیا میں ٹاؤن ہال بہت مقبول ہے لیکن ان صداراتی انتخابات کے لئے ہونے والا پہلا ٹاؤن ہال اتنا مایوس کن ثابت ہوا کہ سیاسی مبصرین نے اس کی افادیت پرہی سوال کھڑے کر دیئے۔ سیاسی مبصرین کی اس رائے کی وجہ صدر ٹرمپ کا مباحثہ کے دوران رویہ تھا۔ اس مباحثہ میں صدر ٹرمپ نے جو حکمت عملی اپنائی تھی اس کے حساب سے ان کا مقصد جو بائڈن کو غصہ دلانا اور ان کو بولنے کا موقع نہیں دینا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس رویہ کی وجہ سے امریکی عوام دونوں امیدواروں کے ذہن اور ان کی پالیسیوں کو سمجھنے سے محروم رہ گئے۔ اس مباحثہ کے بعد سیاسی مبصرین جہاں صدر ٹرمپ کے رویہ سے برہم نظر آئے وہیں ٹاؤن ہال کی افادیت پر بھی سوچنے پر مجبور نظر آئے۔

صدر ٹرمپ اور جو بائڈن کے مباحثہ سے جو مایوسی پیدا ہوئی تھی وہ نائب صدور امیدوار یعنی ٹرمپ کے نائب صدر کے امیدوار مائک پینس اور جو بائڈن کی نائب صدر کی امیدوار کملا ہیرس کے مباحثہ نے دور کر دی اور امید کی کرن جگا دی۔ ان دونوں امیدواروں نے اپنے جوابات کے ذریعہ اس مباحثہ کا معیار بلند کیا اور اس کا زیادہ کریڈٹ ڈیموکریٹس کی امیدوار کملا ہیرس کو جاتا ہے۔ سینیٹر کملا ہیرس جن کی والدہ ہندوستانی ہیں انہوں نے ہر سوال کا موثر جواب دیا اور ان کے جواب دینے کے انداز نے بھی لوگوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ مائک پینس نے جہاں اپنی بات رکھنے میں زیادہ وقت لیا وہیں ان کو صدر کے رویہ اور ان کی حکمت عملی کی وجہ سے زیادہ سننا اور دفاع کرنا پڑا۔ مائک پینس کے پاس اپنی انتظامیہ کے حق میں بولنے کے لئے ایرانی جرنل سلیمانی اور بغدادی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے اس دفاع کے ذریعہ بھی نفرت پھیلانے اور سماج کو بانٹنے کی کوشش کی۔

صدر ٹرمپ سروے کے نتائج، ذرائع ابلاغ کی سخت ناراضگی، کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان تھے اور اب کملا ہیرس کی مدلل گفتگو نے ان کے اندر مزید بوکھلاہٹ پیدا کر دی ہے۔ اسی کی وجہ ہے کہ اب انہوں نے بیان دیا ہے کہ بائڈن کے صدر بننے کے ایک ماہ کے اندر کملا ہیرس امریکہ کی صدر بن جائیں گی۔ صدر ٹرمپ یہیں نہیں رکے بلکہ کملا ہیرس کو کمیونسٹ تک قرار دے دیا۔ انتخابی مہم کے دوران یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے اس طرح کا بیان دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے اپنے ایک بیان سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ اگر وہ نہیں جیتے تو اس کا مطلب انتخابات شفاف طریقہ سے نہیں ہوئے اور ایسے انتخابات کے نتائج موجودہ انتظامیہ کا چلتے رہنا یعنی اگر وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو انتخابات صحیح اور نہیں ہوتے ہیں تو انتخابات غلط اور اس صورت میں ان کی حکومت جاری رہے گی۔ دراصل صدر ٹرمپ کے اس رویہ سے ہی دنیا کی اکثریت پریشان ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے ہر بیان کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جو کر رہے ہیں بس وہ ہی صحیح ہے۔ انہوں نے امریکہ میں قوم پرستی کو اس سظح پر پہنچا دیا ہے جہاں سفید فام امریکیوں کو نسل پرستی ٹھیک لگتی ہے اور جہاں امریکی انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلاؤ اور اموات پر بھی انہیں غصہ نہیں آتا۔ صدر ٹرمپ کی وجہ سےامریکہ کا جو پوری دنیا میں مقام تھا وہ صفر ہو گیا ہے اور وہ چند سفید فام امریکیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی کامیابی نہ صرف امریکیوں کے لئے تشویش کا باعث ہے بلکہ پوری عالمی سماج کے لئے فکر کا مقام ہے۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next