اومیکرون کی وبا ویسی نہیں جیسی کا ہم نے ایک سال قبل سامنا کیا تھا، آکسفورڈ کے سائنسداں کا دعویٰ

آکسفورڈ میں میڈیسن کے پروفیسر جان بیل نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام کے دوران کہا کہ نومبر کے آخر میں دریافت کیا گیا یہ اسٹرین کم خطرناک نظر آتا ہے

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے سبب پوری دنیا اس وقت دہشت میں ہے۔ یہ ویرینٹ کتنی تیزی سے پھیلتا ہے اور کتنا خطرناک ہے اس حوالہ سے دنیا میں کئی تحقیقات کی گئی ہیں۔ دریں اثنا، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک امیونولاجسٹ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا اومیکرون ویرینٹ جس وبا کا سبب بن رہا ہے وہ ویسی نہیں ہے جس کا ہم نے ایک سال قبل سامنا کیا تھا۔ انہوں نے ان خبروں کی تائید کی ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ ہلکا یعنی کم خطرناک ہے۔

آکسفورڈ میں میڈیسن کے پروفیسر جان بیل نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام کے دوران کہا کہ نومبر کے آخر میں دریافت کیا گیا یہ اسٹرین کم خطرناک نظر آتا ہے اور یہاں تک کہ جو مریض استپال میں داخل ہوتے ہیں انہیں بھی کم وقت تک اسپتال میں زیر علاج رہنا پڑتا ہے۔


بیل نے کہا ’’ایک سال پہلے ہم نے جو خوفناک منظر دیکھا تھا، آئی سی یو بھرے ہوئے تھے، متعدد افراد قبل از وقت دم توڑ رہے تھے، میرا خیال ہے کہ ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ وہ صورت حال اب پیدا نہیں ہونے والی۔‘‘ بیل کی جانب سے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ سال کے اختتام سے قبل کورونا سے متعلق سخت اصولوں کا نفاذ نہیں کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔