روزہ قضا کرنے کے مطالبہ کو اسٹار مسلم فٹ بال کھلاڑیوں نے ٹھکرایا

فٹ بال چمپیئنز لیگ میں کئی مشہور فٹ بال کھلاڑی ایسے ہیں جو رمضان کے اس مہینے میں روزہ رکھ کر کھیل رہے ہیں اور انھوں نے اپنے کوچ کے اس مطالبہ کو ٹھکرا دیا ہے کہ وہ اپنا روزہ قضا کر دیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لندن: چمپئنز لیگ کھیلنے میں مصروف آئیکس کے حکیم زائخ، نصیر مزروئی اور لیور پول کے محمد صلاح اور ساڈیو نے روزہ نہ رکھنے کے مطالبہ پر کلب انتظامیہ کے پریشر کو نظر انداز کر کے فٹ بال میچ روزہ کی حالت میں کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارہ کے مطابق چمپیئنز لیگ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ دونوں ٹیموں کے فٹنس کوچز نے کھلاڑیوں کو تنبیہ کی ہے کہ اتنے بڑے میچوں سے قبل روزہ رکھنے سے نہ صرف ان کی جسمانی صلاحیت کم ہوگی بلکہ کھیل کے دوران توجہ پر بھی اثر پڑے گا۔

برطانوی اخبار کےساتھ بات کرتے ہوئے آئیکس ٹیم کے فٹنس کوچ ریمنڈ ورہائین نے کہا ہے کہ اگر زائخ اور مزروئی سیزن کے اس حصے میں روزہ رکھتے ہیں تو یہ کلب کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ 11 ماہ تک کھلاڑیوں کے جسم ایک خاص غذا اور ٹریننگ کے ساتھ رہتے ہیں اور اسے اچانک بدلنا کھلاڑیوں کے جسموں پر منفی اثر ڈالے گا۔

حکیم زائخ ٹیم کے مشہور کھلاڑی ہیں اور آئیکس کی ہر برتری میں اہم کردار رہا ہے۔ انہیں سیزن میں ماہرین آئیکس کا بہترین کھلاڑی قرار دے رہے ہیں۔ وہ ابھی تک اٹھارہ گول کرچکے ہیں۔ زائخ کیلئے صورتحال اسلئے مشکل ہے کیونکہ دونوں اٹیکنگ مڈفیلڈر اور بعض اوقات رائٹ ونگر کی پوزیشن پر کھیلتے ہیں۔

آئیکس کا چمپیئنز لیگ کا سیمی فائنل بدھ کی شام ہالینڈ کے وقت کے مطابق 9 بجے شروع ہوگا۔ جبکہ اس دن افطار کا وقت 9 بج کر 18 منٹ ہے۔ ایسے میں، آئیکس ٹیم کے فٹنس کوچ کا کہنا ہے کہ کھلاڑی بغیر کھائے پیئے میچ شروع نہیں کرسکتے۔

دوسری طرف لیورپول کی طرف سے محمد صلاح اور ساڈیو مانے -دو کھلاڑی ہیں جو کہ روزوں کی پابندی کرتے ہیں۔ مصر اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں کھلاڑی لیورپول کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ بارسلونا کے لیے میسی اور سواریز۔ دونوں کھلاڑیوں نے اب تک مشترکہ طور پر چالیس سے زیادہ گول اسکور کئے ہیں۔

صلاح اور ساڈیو مانے لیورپول کی مسلمان کمیونٹی میں بہت مشہور ہیں۔ دونوں کھلاڑی چمپیئنز لیگ سیمی فائنل کے دن روزہ رکھیں گے۔ اطلاعات ہیں صلاح سیمی فائنل کا میچ فٹنس کی وجہ سے شاید نہ کھیل پائیں لیکن لیورپول کو اس کے علاوہ دیگر لیگز کے میچز ابھی کھیلنے ہیں۔