ہندوستانی فٹبال ٹیم نے آخری میچ میں کیا شاندار مظاہرہ، شام سے میچ برابر رہا

دو میچ ہارنے کے بعد ہندوستانی فٹبال ٹیم نے اپنے آخری میچ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شام کو فائنل میں جانے سے روک دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ہندوستانی فٹبال ٹیم کا ہیرو کانٹی نینٹل کپ کے فائنل میں پہنچنا بہت مشکل تھا لیکن اس نے اپنے آخری مقابلہ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کر تے ہوئے شام (سیریا) کے فائنل میں کھیلنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ گزشتہ روز احمدآباد میں ہوئے اس مقابلہ میں دونوں ٹیمیں مقررہ وقت میں ایک ایک گول سے برابر رہیں۔ ہیرو کپ کے فائنل میں کھیلنے کے لئے شام کو گزشتہ روز کا میچ ہر حال میں جیتنا ضروری تھا لیکن ہندوستانی ٹیم نے اپنے شاندار کھیل کے بدولت شام کا یہ خواب پورا نہیں ہونے دیا۔ جبکہ ہندوستان کے لئے فائنل میں جانے کے امکانات نہ کے برابر تھے وہ صرف اس صورت میں فائنل میں کھیل سکتا تھا کہ اگر گزشتہ روز اپنے تیسرے مقابلہ میں شام کو چھ گولوں کے فرق سے شکست دیتا۔

کل کے میچ میں سب سے بڑا موقع اس وقت آیا جب 52 ویں منٹ میں 18 سال کے نریندر گہلوت نے شاندار گول کر کے ہندوستانی ٹیم کو اپنے طاقتور حریف شام پر برتری دلا دی۔ اس گول کے بعد شام کی ٹیم نے جارہانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور ہر حال میں کھیل جیتنے کی کوشش کی۔ اس کی ان کوششوں میں تھوڑی راحت اس وقت ملی جب 77ویں منٹ میں پینالٹی کے ذریعہ شامی ٹیم نے گول کرکے میچ میں واپسی کی لیکن مقررہ وقت میں جیت کا گول نہ کرنے کی وجہ سے وہ فائنل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکی۔

ویسے تو پورے میچ کے دوران شامی ٹیم نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا لیکن پہلے ہاف میں کئی آسان مواقع گنوا دیئے۔ ہندوستان کے گول کیپر گرپریت سنگھ کی کارکردگی بہت شاندار تھی جس کی وجہ سے شام اپنی کوششوں کو گول میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ ہندوستان کو بھی پہلے ہاف میں کئی مواقع ملے لیکن وہ گول میں تبدیل نہیں ہو پائے۔ چھٹے منٹ میں ہی ہندوستان کوا یک شاندار موقع ملا تھا۔ نریندر گہلوت کو ریفری نے 39ویں منٹ میں پیلا کارڈ دکھایا، نریندر گہلوت نے دوسرے ہاف کی ابتداء میں ہی ہیڈ کے ذریعہ ایک شاندار گول کیا۔ انہوں نے یہ ہیڈ انیرودھ تھاپا کے ذریعہ لئے گئے ایک کارنر پر کیا۔

74 ویں منٹ میں ہندوستانی کوچ نے ایک بدلاؤ کیا اور منڈار کو باہر بلا کر ان کی جگہ جیری لال رنجوالا کو میدان میں بھیجا اور 77 ویں منٹ میں جیری نے ڈی کے اندر ایک فاؤل کیا جس کی وجہ سے ریفری نے شامی ٹیم کو پینالٹی دے دی جسے ان کے کھلاڑی فراس الخاطب نے گول میں بدلنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ شام نے بہت کوشش کی کہ وہ کسی طرح میچ جیت جائے لیکن ہندوستانی دفاعی کھلاڑیوں نے شاندار مظاہرہ کیا۔ ہیرو کانٹی نینٹل کپ میں ہندوستان کو تین اچھی ٹیموں سے کھیلنے کا موقع ملا جبکہ وہ اپنے پہلے دو میچ ہارنے کی وجہ سے فائنل میں جگہ نہیں بنا پائی۔