فلم اور تفریح

ملیالی گیت: پریا پرکاش کی عرضی پر حکم التوا جاری

سپریم کورٹ نے کہا کہ فلم کے پروموشنل ویڈیو کی بنیاد پر کسی بھی ریاست میں فوجداری کی دفعہ 200 کے تحت کسی بھی شکایت پر غور نہیں کیا جاسکتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملیالی اداکارہ پریہ وریئر اور ڈائرکٹر ملیالی فلم ’’اورو ادار لو‘‘کے خلاف تمام فوجداری کارروائی پر حکم التوا جاری کردیا ہے۔ حیدرآباد اور ممبئی میں اس فلم میں موجود ایک گیت پراعتراض ظاہر کرتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں تذکرہ کیا گیا تھا کہ اس گیت میں حضرت خدیجہ اور رسول اللہؐ کا ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے احساسات مجروح ہوئے ہیں۔ حالانکہ مسلم طبقہ سے وابستہ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ گیت کے بول توہین آمیزنہیں ہیں۔

سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوتے چیف جسٹس دیپک مشراِ جسٹس ڈی وائی چندراچور اور جسٹس اے ایم کھانوالکر پر مشتمل بنچ نے یہ حکم التوا جاری کیا ہے۔ عدالت عظمی نے تلنگانہ اور مہاراشٹر ریاستوں کو نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ فلم کے پروموشنل ویڈیو کی بنیاد پر کسی بھی ریاست میں فوجداری کی دفعہ 200 کے تحت کسی بھی شکایت پر غور نہیں کیا جاسکتا ہے۔

پریا پرکاش اور فلم ڈائرکٹر نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مبینہ طورپر ٹھیس پہنچانے پر تلنگانہ میں درج ایف آئی آر اور مہاراشٹرا میں رضا اکیڈیمی کے ساتھ ساتھ جن جاگرن سمیتی کی جانب سے کی گئی شکایت پر درج فوجداری شکایت کو کالعدم قرار دینے کی خواہش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں۔ ملیالی گیت میں حضرت خدیجہ کے ذکر سے ہنگامہ، ایف آئی آر درج

یہ پورا تنازعہ ملیالی فلم کے گیت کے بول کو لے کر ہے جس کے نتیجہ میں فوجداری شکایات درج کروائی گئی اور ایف آئی آ رکا اندراج کیا گیا ہے۔ فلم کے تخلیق کاروں نے اپنے وکلا کے ذریعہ داخل عرضی میں عدالت عظمی سے کہا کہ تلنگانہ، مہاراشٹرمیں اس گیت کی غلط انداز میں تشہیر پر مختلف گروپس کی جانب سے فوجداری شکایات درج کروائی گئیں ہیں اور امکان ہے کہ ایسی ہی شکایات غیر ملیالی ریاستوں میں بھی درج کروائی جائیں گی اس لئے ان تمام کارروائیوں پر روک لگا دی جائے۔ شکایت گزاروں کا کہنا ہے کہ فلم کے گیت میں رسول اللہ ؐ اور حضرت خدیجہ کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔

Published: 21 Feb 2018, 4:52 PM