دلیپ کمار نے کمل ہاسن کے اصرار کرنے پر بھی پُرتشدد پس منظر والی فلم نہیں کی، جانیں کیوں؟

کمل ہاسن نے کہا کہ مجھے ’شہنشاہ جذبات‘ کے اس فلم میں اداکاری نہ کرنے کی وجہ معلوم ہوئی۔ دراصل فلم بہت زیادہ پرتشدد تھی اور انہوں نے پرتشدد پس منظر والی فلموں میں کام نہ کرنے کا عہد کیا ہوا تھا۔

دلیپ کمار کے ساتھ کمل ہاسن / سبھاش کے جھا
دلیپ کمار کے ساتھ کمل ہاسن / سبھاش کے جھا
user

سبھاش کے جھا

ہندوستان کے پسندیدہ ترین اداکار دلیپ کمار وفات پا گئے ہیں۔ دلیپ کمار کو اپنے لئے مثالی شخصیت قرار دینے والے کمل ہاسن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی سب سے بہترین فلم ’تھیور مگن‘ کو ہندی میں بنانا چاہتے تھے اور اس میں وہ دلیپ صاحب اور خود کو باپ بیٹے کے کردار میں لینا چاہتے تھے۔ لیکن دلیپ صاحب نے انکار کر دیا۔

کمل ہاسن نے کہا ’’میں اداکاری سے دستبردار بھی ہونا چاہتا تھا تاکہ اپنی مثالی شخصیت کے ساتھ کام کرنے کی خوشی اور اعزاز حاصل ہو سکے۔ میں نے سوچا کہ دلیپ صاحب شاید میرے تمل برہمن ہونے کی وجہ سے اس فلم میں کام نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا میں نے تجویز دی کہ باپ بیٹے کے کرداروں کو پٹھان بنا دیتے ہیں اور شاہ رخ خان کو دلیپ صاحب کا بیٹا بنا دیتے ہیں۔ لیکن انہوں نے پھر بھی انکار کیا۔‘‘


کمل ہاسن نے کہا کہ، اس کے بعد جاکر مجھے ’شہنشاہ جذبات‘ کے اس فلم میں اداکاری نہ کرنے کی وجہ معلوم ہو سکی۔ دراصل انہیں فلم بہت زیادہ پر تشدد محسوس ہوئی اور انہوں نے پرتشدد پس منظر والی فلموں میں کام نہ کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ بمل رائے کی دیوداس، نتن بوس کی گنگا جمنا اور کے آصف کی مغلِ اعظم میں بہترین کردار ادا کرنے کے باوجود دلیپ کمار کبھی پرتشدد کرداروں اور فلموں کے لئے خود کو پیش نہیں کر سکے۔

کمل ہاسن نے بتایا، ’’دلیپ صاحب اپنے بچپن میں آبائی شہر پشاور میں بہت زیادہ خونریزی اور قتل و غارت دیکھ چکے تھے۔ ان کے خاندان کو قتل کر دیا گیا تھا اور انہوں نے پلنگ کے نیچے چھپ کر کسی طرح جان بچائی تھی، جہاں وہ کئی دنوں تک بغیر کھائے پیئے رہے تھے۔ اور جانتے ہیں کس چیز نے انہیں زندہ رکھا! ایک چڑیا نے، جو ان کے چھپنے کے مقام کے پاس جا کر انہیں یاد دلاتی تھی کہ باہر ایک زندگی ان کی منتظر ہے۔ یوسف صاحب اس کے بعد کبھی تشدد کا سامنا نہیں کر سکے، یہاں تک کہ پردے پر بھی نہیں۔


کمل ہاسن کو دلیپ کمار سے یہ شکایت رہی کہ انہوں نے بہت جلد فلموں میں اداکاری سے دستبرداری اختیار کر لی۔ وہ کہتے ہیں، ’’انہیں اتنی جلدی سبکدوش ہونے کا حق نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کم از کم 40 سال پہلے ہی فلموں سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہمیں ان کی مزید کئی بہترین کارکردگیاں نصیب ہو سکتی تھیں۔ مغل اعظم اور گنگا جمنا میں انہوں نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے کہ جب بھی اسے دیکھتے ہیں منہ کھلا رہ جاتا ہے۔ ان کی کارکردگی میں کوئی چھوٹی سی خامی بھی نظر نہیں آتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔