مدرسوں کے 25 ہزار اساتذہ 4 سال سے تنخواہوں سے محروم، وزارت تعلیم سے لگائی گہار

اعجاز احمد نے کہا کہ ان کی تنظیم کے وفد نے شاستری بھون پہنچ کر وزیر تعلیم اور سکریٹری سے گہار لگائی ہے کہ مدرسہ اساتذہ کے کنبوں کو تباہ و برباد ہونے سے بچائیں۔

مدرسوں کے 25 ہزار اساتذہ 4 سال سے تنخواہوں سے محروم، وزارت تعلیم سے لگائی گہار / تصویر قومی آواز
مدرسوں کے 25 ہزار اساتذہ 4 سال سے تنخواہوں سے محروم، وزارت تعلیم سے لگائی گہار / تصویر قومی آواز
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اتر پردیش کے مختلف مدرسوں میں درس و تدریس انجام دینے والے اساتذہ کے ایک وفد نے بدھ کے روز راجدھانی پہنچ کر وزارت تعلیم سے گہار لگائی کہ ان کی تنخواہوں کو واگذار کیا جائے۔ اساتذہ کا وفد ’اسلامی مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرس ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ کے قومی صدر اعجاز احمد کی قیادت میں دہلی کے شاستری بھون پہنچ کر وزارت تعلیم کے دفتر میں اپنی روداد سنائی اور مکتوب پیش کیا۔ واضح رہے کہ مدرسہ ٹیچر گزشتہ 4 سالوں سے تنخواہوں سے محروم ہیں لیکن ان کی سماعت مرکزی حکومت کی طرف سے نہیں کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مرکز کی مدرسہ جدیدکاری اسکیم کے تحت صوبہ کے سینکڑوں مدارس کو فنڈ ملتا ہے۔ ان میں اساتذہ کے دو زمرے ہیں۔ پہلے زمرے میں گریجویٹ ٹیچر اور دوسرے زمرے میں پوسٹ گریجویٹ ٹیچر آتے ہیں۔ ان مدارس میں جدید سبجیکٹ پڑھانے کے لئے اساتذہ کو مرکزی حکومت تنخواہ دیتی ہے جس میں ریاستی حکومت بھی اپنی طرف سے کچھ حصہ جوڑتی ہے۔

’اسلامی مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرس ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ کے قومی صدر اعجاز احمد نے قومی آواز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے حصہ کا فنڈ جاری کرنے کو تیار ہے لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے اس کے حصہ کا فنڈ جاری نہیں کیا جا رہا ہے، نتیجتاً اساتذہ اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ اس سے پہلے بھی یوپی کے ہزاروں مدرسہ اساتذہ کئی مرتبہ دہلی آ چکے ہیں اور جنتر منتر پر احتجاج پر بھی کر چکے ہیں۔ ہر بار انہیں یہاں سے یقین دہانی تو حاصل ہوتی ہے لیکن تنخواہ نہیں۔

اعجاز احمد کہتے ہیں کہ گزشتہ سال انہیں 3.5 ماہ کی تنخواہ ضرور فراہم کی گئی تھی لیکن اس کے بعد کوئی سماعت نہیں کی گئی اور اب لاک ڈاؤن کے بعد تو حالات اتنے خراب ہیں کہ کئی اساتذہ تو کسمپرسی کی صورت حال برداشت نہیں کر سکے اور خودکشی تک کر چکے ہیں۔

اعجاز احمد نے کہا کہ گزشتہ چار سیشن کے بعد اب پانچویں سیشن کے بھی پانچ مہینے گزر چکے ہیں لیکن مدرسہ اساتذہ کو ان کے حق کی تنخواہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اساتذہ کی ابتر حالت کے پیش نظر اتر پردیش کے وزارت اقلیتی بہبود نند کمار نندی بذات خود وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک کو خط ارسال کر چکے ہیں لیکن تاحال اس خط پر بھی نوٹس نہیں لیا گیا ہے۔ اعجاز احمد نے کہا کہ ان کی تنظیم کے وفد نے شاستری بھون پہنچ کر وزیر تعلیم اور سکریٹری سے گہار لگائی ہے کہ مدرسہ اساتذہ کے کنبوں کو تباہ و برباد ہونے سے بچائیں۔

next