چالیس سال قبل پڑھائی چھوڑ چکے 55 سالہ محمد علی 12ویں جماعت میں کامیاب

عمر رسیدہ مصری طالب علم نے طلبہ کو نصیحت کی ہے کہ وہ تعلیم سے بھاگیں نہیں کیوںکہ آرزوؤں کو پورا کرنے کے لئے تعلیم ہی ان کا ہتھیار ہے۔ تعلیم لوگوں کو ایک اچھی زندگی کی سمت لے جاتی ہے۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

قاہرہ: محمد علی عبدالمعطی ایک 55 سالہ مصری تاجر ہیں۔ تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ رواں سال اعلی ثانوی درجے کا امتحان دینے والے سب سے زیادہ عمر رسیدہ طالب علم قرار پائے۔ انہوں نے امتحانات میں 63 فی صد نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ محمد علی اپنی مارکشیٹ اور سرٹفکیٹ لینے کے لیے قاہرہ کے شمال میں واقع محلے الشرابیہ میں متعلقہ تعلیمی ادارے پہنچے تو العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم بھی ان کے ساتھ تھی۔

محمد علی کے مطابق انہوں نے 40 سال قبل تعلیم کے حصول کا سلسلہ ادھورا چھوڑ دیا تھا اور کاروبار میں لگ گئے۔ بعد ازاں ان کی شادی ہو گئی اور وہ چار بچوں کے باپ بن گئے۔ ان بچوں میں سب سے بڑا بیٹا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے جب کہ سب سے چھوٹا پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔ تقریباً 3 برس پہلے محمد علی کی بیٹی نے تعلیم مکمل کرنے کے لیے اپنے والد کی حوصلہ افزائی کی۔ اس نے محمد علی پر زور دیا کہ وہ انٹرمیڈیٹ کریں اور پھر یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کریں۔

محمد علی نے انٹرمیڈیٹ کے لیے ہائی اسکول سے الحاق کے واسطے اپنے کاغذات جمع کروائے تو انتظامیہ کو خیال ہوا کہ وہ کسی طالب کے والد ہیں جو اپنے بچے کے کاغذات پیش کر رہے ہیں۔ آخر کار محمد علی کا الحاق ہو گیا اور انہوں نے رواں سال بارہویں جماعت کا امتحان دے دیا۔

مصر میں انٹرمیڈیٹ کے عمر رسیدہ ترین طالب علم نے بتایا کہ پانچ ماہ قبل ایک حادثے میں ان کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس کے سبب وہ گھر میں رہنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی دوران کرونا کی وبا نمودار ہو گئی۔ اس دوران ہمت سے کام لیتے ہوئے محمد علی نے امتحانات کی تیاری کی۔

محمد علی کے مطابق امتحانی مرکز میں طلبہ انہیں دیکھ کر ممتحن یا پھر کسی طالب علم کا سرپرست سمجھتے تھے۔ بعد ازاں طلبہ اور ممتحن یہ جان کر حیران رہ گئے کہ محمد علی امتحان دینے کے لیے آئے ہیں۔ محمد علی کہتے ہیں کہ ان کا خواب ہے کہ وہ قاہرہ یونیورسٹی میں کلیہ قانون سے الحاق کریں اور اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے ماسٹرز اور پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کریں۔

مصر کے اس عمر رسیدہ طالب علم نے طلبہ کو نصیحت کی ہے کہ وہ تعلیم سے بھاگیں نہیں کیوں کہ آرزوؤں کو پورا کرنے کی راہ میں تعلیم ہی ان کا ہتھیار ہے۔ تعلیم اقوام اور عوام کو بہتر بناتی ہے اور ایک اچھی زندگی کی سمت لے جاتی ہے۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 11 Aug 2020, 4:58 PM
next