بحران زدہ سری لنکا: سیاحوں کی واپسی سے معیشت بہتر ہوتی ہوئی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق پچھلے سال دسمبر میں 210,000 سیاحوں نے سری لنکا کی سیاحت کی جبکہ 2022ء میں اسی ایک ماہ کے عرصے میں ملک میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 91,900 ریکارڈ کی گئی تھی۔

بحران زدہ سری لنکا: سیاحوں کی واپسی سے معیشت بہتر ہوتی ہوئی
بحران زدہ سری لنکا: سیاحوں کی واپسی سے معیشت بہتر ہوتی ہوئی
user

Dw

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023ء کے آخری تین ماہ کے دوران ملک میں معاشی ترقی کی شرح 4.5 فیصد رہی۔سری لنکا کی حکومت کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 2023ء کی چوتھی اور آخری سہ ماہی میں اس بحران زدہ ملک کی معیشت میں خاطر خواہ بہتری دیکھی گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیشہ وارانہ خدمات، زراعت اور صنعتوں جیسے شعبوں کے باعث 2023ء کے آخری تین ماہ میں سری لنکا کی معیشت میں 4.5 فیصد ترقی ہوئی، جبکہ 2022ء کی آخری سہ ماہی میں ملکی معیشت 12.4 فیصد سکڑ گئی تھی۔ سن 2022 میں 46 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کا شکار ملک سری لنکا دیوالیہ ہو گیا تھا اور تب سے ہی اسے معاشی بدحالی کا سامنا رہا ہے۔ تب اس جنوبی ایشیائی جزیرہ ریاست کی معیشت 7.8 فیصد سکڑ گئی تھی۔


سرکاری ادارہ برائے شماریات کے ایک تازہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں 2023ء میں سری لنکن معیشت کا حجم مجموعی طور پر 2.4 فیصد کم ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پچھلے سال ملکی معیشت میں 'دوہرا پن‘ دیکھا گیا، جب سال کے پہلے چھ ماہ میں تو معیشت تنزلی کا شکار رہی جبکہ دوسری ششماہی میں مجموعی طور پر اقتصادی بہتری دیکھی گئی۔

اس حوالے سے آج جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی سیاحتی شعبے میں گزشتہ برس سال کے آخری مہینوں میں خاطر خواہ بہتری آئی اور ساتھ ہی ترسیلات زر میں بھی واضح اضافہ ہوا۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق پچھلے سال دسمبر میں 210,000 سیاحوں نے سری لنکا کی سیاحت کی جبکہ 2022ء میں اسی ایک ماہ کے عرصے میں ملک میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 91,900 ریکارڈ کی گئی تھی۔


اس وقت سری لنکا کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 2.9 بلین ڈالر کے ایک بیل آؤٹ پیکج کے ذریعے مالیاتی مدد حاصل ہے۔ ساتھ ہی کولمبو حکومت غیر ملکی قرض دہندگان کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں طے شدہ معاہدوں اور شرائط میں کچھ آسانیوں کا باعث بننے والی ترامیم کے لیے مذاکرات بھی کر رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔