اسرائیل کو جنگی طیاروں کے پرزے فراہم نہ کیے جائیں، ڈچ عدالت

ڈچ عدالت نے ایک اہم فیصلہ سنایا تھا لیکن ڈچ حکومت کی جانب سے ملکی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔

اسرائیل کو جنگی طیاروں کے پرزے فراہم نہ کیے جائیں، ڈچ عدالت
اسرائیل کو جنگی طیاروں کے پرزے فراہم نہ کیے جائیں، ڈچ عدالت
user

Dw

ایک ڈچ عدالت نے ملکی حکومت کو اسرائیل کو ایف 35 جنگی طیاروں کے پرزے فراہم کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ انسانی حقوق کی تنظمیوں کی دائر کردہ ایک اپیل پر سنایا۔ ڈچ عدالت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دی گئی درخواست کی سماعت کرتے ہوئےحکومت کو ہدایت کی کہ غزہ پٹی میں اسرائیل کے زیر استعمال جنگی طیاروں کے فاضل پرزے اسرائیل کو مہیا نہ کیے جائیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف ہے کہ اسرائیل کو ایف 35 جنگی طیاروں کے پرزوں کی فراہمی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتی ہے۔

عدالت نے ڈچ ریاست کو حکم دیا ہے، "ریاست سات دن کے اندر اندر اسرائیل کو کی جانے والی فاضل پرزوں کی ترسیل روک دے۔" امریکی ایف 35 جنگی طیاروں کے پرزے نیدرلینڈز میں واقع ایک گودام سے اسرائیل سمیت دیگر ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو نیدرلینڈز کے ویئر ہاؤس سے پرزوں کی فراہمی کے نتیجے میں، ''نیدرلینڈز غزہ میں جاری جنگ کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حصہ بن رہا ہے۔‘‘


گزشتہ سال دسمبر میں دی ہیگ کی ایک عدالت نے کہا تھا کہ ایف 35 طیاروں کے پرزوں کی اسرائیل کو فراہمی ایک سیاسی فیصلہ ہے، جس میں ججوں کو مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔ سرکاری وکلاء کی جانب سے عدالت میں دلیل دی گئی تھی کہ نیدرلینڈز میں واقع گوداموں سے پرزے فراہم نہ کرنے پر اسرائیل ان پرزوں کو دوسرے ممالک سے حاصل کر سکتا ہے۔

ڈچ حکومت کی جانب سے ملکی عدالت کے آج کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ نیدرلینڈز کے وزیر تجارت جیفری وان لیووین نے کہا، ''ایف 35 طیاروں کے پرزوں کی اسرائیل کو فراہمی بلاجواز نہیں ہے۔ یہ جنگی طیارے اسرائیل کی سلامتی اور عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں تاکہ وہ خطے میں دریش خطرات کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکے۔ مثال کے طور پر ایران، یمن اور شام جیسے ممالک سے خطرات‘‘۔ وان لیووین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس فیصلے کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔


غزہ میں جاری جنگ گزشتہ سال 7 اکتوبر کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی۔ حماس کے ان حملوں میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے دیے گئے اعداد و شمار پر مبنی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق حماس کے عسکریت پسند تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں پیر بارہ فروری تک کم از کم 28,340 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں 'نسل کشی کی کارروائیوں‘ کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا چاہییں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;