وراٹ کوہلی کی ’کپتانی پاری‘ کا اختتام، ٹیسٹ کرکٹ کی بھی کپتانی چھوڑنے کا اعلان

وراٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’میں دھونی کو بہت زیادہ شکریہ جنھوں نے مجھ پر ایک کپتان کے طور پر بہت زیادہ بھروسہ کیا ہے۔ انھوں نے مجھے اس لائق سمجھا کہ میں ہندوستانی کرکٹ کو آگے لے کر جا سکتا ہوں۔‘‘

وراٹ کوہلی، تصویر آئی اے این ایس
وراٹ کوہلی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کا خواب لے کر ہندوستانی ٹیم وہاں پہنچی تھی، لیکن پہلا ٹیسٹ جیتنے کے بعد دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد یہ خواب چکناچور ہو گیا۔ اس شکست کے بعد وراٹ کوہلی نے ٹیسٹ کی کپتانی چھوڑنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ 15 جنوری کی شام جاری ایک بیان میں انھوں نے اس ذمہ داری سے خود کو سبکدوش کرنے کی جانکاری لوگوں کو دی۔ اس طرح وراٹ کوہلی کی ’کپتانی پاری‘ کا اب مکمل طور پر اختتام ہو گیا ہے۔ ٹی-20 کرکٹ میں کپتانی وہ پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں اور وَنڈے کی کپتانی سے بھی انھیں پہلے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔

اپنے بیان میں وراٹ کوہلی نے کہا کہ میں ہمیشہ ہر چیز میں 120 فیصد تعاون دینا چاہتا ہوں۔ اگر میں ایسا نہیں کر پاتا ہوں تو یہ غلط ہوگا۔ میں اس بات کو لے کر پوری طرح واضح ہوں اور میں اپنی ٹیم کے ساتھ بے ایمانی نہیں کر سکتا ہوں۔ وراٹ کا کہنا ہے کہ ’’ٹیم کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے میں نے 7 سال تک ہر دن سخت محنت کی۔ میں نے اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ کیا اور اس میں کوئی کسر نہین چھوڑی۔ ہر چیز کو کسی نہ کسی موڑ پر رکنا ہی ہوتا ہے اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے طور پر میرے لیے رکنے کا یہی درست وقت ہے۔ اس پورے سفر کے دوران کئی نشیب و فراز بھی آئے، لیکن میری کوششوں اور بھروسے میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی۔‘‘


اپنے بیان میں وراٹ نے بی سی سی آئی کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ اس نے اتنے طویل وقت تک مجھے اپنے ملک کی قیادت کرنے کا موقع دیا جس کے لیے شکرگزار ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں اپنے ساتھیوں کا بھی شکریہ کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے پہلے دن سے ہی میرے ویژن پر بھروسہ کیا اور کسی بھی حالت میں ہتھیار نہیں ڈالے۔ آپ نے میرے سفر کو یادگار اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ روی بھائی اور سپورٹ گروپ اس گاڑی کے انجن کے طور پر رہے، جنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو لگاتار اونچا اٹھایا ہے۔ آپ سب نے میرے ویژن کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ بیان کے آخر میں وراٹ کہتے ہیں ’’آخر میں ایم ایس دھونی کو بہت زیادہ شکریہ جنھوں نے مجھ پر ایک کپتان کے طور پر بہت زیادہ بھروسہ کیا ہے۔ انھوں نے مجھے اس لائق سمجھا کہ میں ہندوستانی کرکٹ کو آگے لے کر جا سکتا ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔