بینک تنازعہ: آستھا سنگھ کے جواب میں ریتو نے کہا ’کیا برہمن ہونا گناہ ہے؟ ہاں، میں برہمن ہوں‘
بینک منیجر اور کلسٹر ہیڈ کا رویہ بھی نامناسب تھا جس کی وجہ سے ریتو نے استعفیٰ دیا۔ ریتو نے دعویٰ کیا کہ اس دن جو کچھ ہوا اس میں سب سے پہلے آستھا سنگھ نے بدتمیزی کی۔
کانپور کے ایچ ڈی ایف سی بینک کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور بینک کے اس تنازعہ نے بہت خراب شکل اختیار کر لی ہے ۔ ویڈیو میں بینک ملازم آستھا سنگھ غصے سے یہ کہتے ہوئے نظر آرہی ہیں کہ’ میں ٹھاکر ہوں‘۔ اب وائرل ویڈیو کا دوسرا رخ بھی سامنے آگیا ہے۔ یہ بیان ریتو ترپاٹھی کاہے جو بینک میں کام کرتی تھیں اور وہ استعفی دینے وہاں آئی ہوئیں تھیں۔ اے بی پی نیوز سے بات کرتے ہوئے ریتو ترپاٹھی اور ان کے شوہر نے کہا کہ وہ بینک کے رویہ سے پریشان تھے۔
اے بی پی نیوز سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ بینک منیجر اور کلسٹر ہیڈ کا رویہ بھی نامناسب تھا جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دیا۔ ریتو نے دعویٰ کیا کہ اس دن جو کچھ ہوا اس میں سب سے پہلے آستھا نے بدتمیزی کی۔ ریتو کے شوہر نے روتے ہوئے پوچھا، کیا برہمن ہونا گناہ ہے؟ ہاں، میں برہمن ہوں۔" ریتو نے کہا، "اگر وہ ٹھاکر ہے، تو میں برہمن ہوں۔"
ریتو نے کہا کہ اصل مسئلہ نئے سال کے جشن سے شروع ہوا تھا ۔ انہوں نے بینک کے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی بات کہی ہے اور انہوں نے اپنی نند کا بھی ذکر کیا۔ریتو کے شوہر نے کہا کہ کوئی بھی بھائی اپنی بہن کی تزلیل ہوتے نہیں سن سکتا ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آستھا سنگھ نے کہا، "یہ معاملہ اس طرح سے پیش نہیں آیا جس طرح اسے پیش کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ کسی گاہک سے متعلق نہیں ہے۔ یہ ہمارے ساتھ کام کرنے والی خاتون ملازم کے شوہر سے متعلق ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "خاتون ملازم کے شوہر نے میرے ساتھ بدتمیزی کی اور گالی گلوچ کی، اس کے بعد میں نے جو بھی اقدام کیا وہ درست سمجھا۔ اگر کوئی مجھ سے میری ذات کے بارے میں پوچھتا ہے تو مجھے اپنی ذات پر بہت فخر ہے، اور میں نے ایسا کیا۔"
آستھا نے مزید کہا، "میں ایک ٹھاکر ہوں، مجھے اس پر فخر ہے۔ اسے زبردستی ذات پرستی کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ جس شخص سے ہمارا جھگڑا ہوا وہ ایک برہمن ہے، اور ہم برہمنوں کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ میں قانونی کارروائی کروں گی کیونکہ سوشل میڈیا پر میری تصویر کو داغدار کیا گیا ہے۔ میں اس کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کروانا چاہتی ہوں۔"
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔