ٹی-20 عالمی کپ: ہند-پاک میچ کے لیے ہو جائیے تیار، پاکستانی کرکٹروں کو ملے گا ہندوستانی ویزا

ہندوستان نے پاکستانی کرکٹروں کو ویزا دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کو بورڈ کے سکریٹری جے شاہ نے جانکاری دی ہے کہ حکومت پاکستانی کرکٹروں کو ویزا دینے کے لیے تیار ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

رواں سال کے اکتوبر ماہ میں ٹی-20 عالمی کپ کھیلا جانا ہے اور اس کا انعقاد ہندوستان میں ہی ہوگا۔ اس بات کو لے کر عرصہ سے کشمکش کی صورت حال بنی ہوئی تھی کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ہندوستان کا ویزا تو نہیں ملے گا، پھر وہ عالمی کپ میں کیسے حصہ لے پائیں گے۔ لیکن اب یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ آئی سی سی ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستان نے پاکستانی کرکٹروں کو ویزا دینے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو بورڈ کے سکریٹری جے شاہ نے جانکاری دی ہے کہ حکومت پاکستانی کرکٹروں کو ویزا دینے کے لیے تیار ہے۔

اس خبر سے ان لوگوں کے چہروں پر خوشی پھیل گئی ہے جو عرصہ دراز سے ہند-پاک کرکٹ میچ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں قابل غور ہے کہ ہندوستان اور پاکستان نے سفارتی رشتوں میں کشیدگی کے سبب ایک دہائی سے آپس میں کرکٹ نہیں کھیلا ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان طویل مدت سے دو فریقی سیریز کا بھی انعقاد نہیں ہوا ہے۔ صرف آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں ہی دونوں ٹیمیں ایک ساتھ میدان پر اتر سکی ہیں۔

جہاں تک پاکستانی کرکٹروں کو ہندوستانی ویزا دیئے جانے کی بات ہے، اس سلسلے میں جے شاہ نے جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں ویڈیو کانفرنس کے دوران یہ جانکاری دی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ٹی-20 عالمی کپ 9 مقامات پر کھیلا جائے گا اور فائنل میچ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ جن دیگر مقامات کو میچ کے لیے منتخب کیا گیا ہے وہ ہیں دہلی، ممبئی، چنئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدر آباد، دھرمشالہ اور لکھنؤ۔

بی سی سی آئی کے ایک رکن نے پاکستانی کرکٹروں کو ویزا دیئے جانے سے متعلق لیے گئے فیصلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ویزا کا مسئلہ تو حل ہو چکا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستانی شیدائیوں کو ہندوستان آنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں یہ بھی طے ہوگا کہ پاکستانی شیدائیوں کے بارے میں کیا سوچا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔