ٹی-20 عالمی کپ: بنگلہ دیش وی وی آئی پی سیکورٹی کے باوجود اپنی ٹیم ہندوستان بھیجنے کو راضی نہیں
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے غیر رسمی طور پر آئی سی سی کو بتا دیا ہے کہ وہ اس یقین دہانی کے باوجود ٹی-20 عالمی کپ کے لیے اپنی ٹیم کو ہندوستان بھیجنے کو راضی نہیں ہے۔

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں، اور اب حالات ایسے ہیں کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) ٹی-20 عالمی کپ میچ کے لیے اپنی ٹیم کسی بھی حال میں ہندوستان بھیجنے کو راضی نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو سمجھانے کی کوششیں مستقل جاری ہیں، لیکن اس کا کوئی فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بی سی بی اور بی سی سی آئی کے درمیان ثالثی کر حالات بہتر کرنے میں مصروف ہے۔ حالانکہ بنگلہ دیشی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سیکورٹی کا حوالہ دے کر ہندوستان آنے سے منع کرنے والے بنگلہ دیش نے ’اسٹیٹ لیول سیکورٹی‘ دستیاب کرانے کے باوجود ہندوستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے اس معاملے میں 6 جنوری کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ میں اس معاملہ پر بات چیت کا فیصلہ کیا۔ یعنی آج ہی یہ میٹنگ طے ہے جس میں آئی سی سی رسمی طور پر بی سی سی آئی کی تجویز بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سامنے رکھے گی۔ اس میٹنگ میں کیا کچھ ہوگا، یہ تو آنے والا وقت بتائے گائے، لیکن جیسا کہ پہلے ہی صاف ہو چکا ہے، بنگلہ دیش اس تجویز کو نامنظور کرنے والی ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ میٹنگ میں آئی سی سی اور بی سی بی درمیان کا کوئی راستہ نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
بنگلہ دیشی بورڈ کے رخ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات اب ہندوستان اور پاکستان والی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے گزشتہ سال چمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کر دیا تھا، اور ہندوستانی ٹیم کے مقابلے یو اے ای میں کھیلے گئے تھے۔ اس کے بدلے میں پاکستان نے بھی اپنی ٹیم کو ہندوستان بھیجنے سے منع کر دیا تھا۔ خاتون عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے میچ سری لنکا میں کھیلے گئے، جبکہ رواں سال ہونے جا رہے ٹی-20 عالمی کپ میں بھی پاکستانی ٹیم اپنے میچ سری لنکا میں کھیلے گی۔ بنگلہ دیش بھی اب کچھ اسی طرح کا رویہ اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔ وہ اپنے میچ ہندوستان سے باہر کھیلنے پر بضد ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔