سڈنی ٹسٹ: کل سے شروع ہوگی ہندوستان اور آسٹریلیا کے مابین برتری کی جنگ

15 جنوری سے ہونے والے چوتھے اور آخری ٹسٹ کے لئے برسبین نہ جانے کی بات بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ فی الحال یہ خیال کیا جارہا ہے کہ دونوں بورڈز نے برسبین میں کھیلنے پر اتفاق کیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سڈنی: ہندوستان اور آسٹریلیا بارڈر-گواوسکر ٹرافی کے لئے دلچسپ مقابلہ کا تیسرا مقام اب سڈنی میں ہے جہاں دونوں ٹیمیں جمعرات سے شروع ہونے والے تیسرے ٹسٹ میچ میں برتری حاصل کرنے کے ارادہ سے اتریں گی آسٹریلیا نے ایڈیلیڈ میں پہلا ڈے نائٹ ٹسٹ آٹھ وکٹوں سے جیتا تھا، جبکہ ہندوستان نے اجنکیا رہانے کی کپتانی میں زبردست واپسی کی اور ملبورن میں دوسرا باکسنگ ڈے ٹسٹ آٹھ وکٹوں سے جیتا اور سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

ملبورن ٹسٹ کے بعد دونوں ٹیموں کے مابین میدان کے باہر کافی کچھ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے سڈنی میں دلچسپ میچ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ روہت شرما اپنے قرنطین کی مدت پوری کرنے کے بعد ہندوستانی ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں اور انہیں چیتیشور پجارا کی جگہ ٹیم کا نائب کپتان نامزد کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ روہت شرما کا سڈنی ٹسٹ میں مینک اگروال کی جگہ بیٹنگ کرنے کا پورا امکان ہے۔ فاسٹ بالر امیش یادو کو انجری کے باعث ٹسٹ سیریز سے باہر کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ٹی نٹراجن کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک اور فاسٹ با لر محمد شامی ایڈیلیڈ میں پہلے ٹسٹ کے بعد انجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوگئے تھے۔

سڈنی ٹسٹ کے لئے تیسرے فاسٹ بالر جسپریت بمراہ اور محمد سراج کا مقابلہ شاردل ٹھاکر، نودیپ سینی اور نٹراجن کے درمیان رہے گا۔ نئے سال میں روہت سمیت پانچ کھلاڑیوں نے انڈور ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا تھا، جس کا بل ایک مداح نے ادا کیا تھا، جس کے بعد بتایا گیا کہ ان پانچوں کھلاڑیوں نے کورونا پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔ لیکن ہندوستانی کیمپ نے تمام ہندوستانی کھلاڑیوں اور عملے کی جانب سے ٹسٹ رپورٹس کے منفی ہونے کے بعد راحت کی سانس لی ہے۔ 15 جنوری سے ہونے والے چوتھے اورآخری ٹسٹ کے لئے برسبین نہ جانے کی بات بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ فی الحال یہ خیال کیا جارہا ہے کہ دونوں بورڈز نے برسبین میں کھیلنے پر اتفاق کیا ہے۔

خطرناک اوپنر ڈیوڈ وارنر کی آسٹریلیائی کیمپ میں واپسی نے جوش و خروش کا ماحول بنا دیا ہے۔ کینگروز کی ٹیم کا ملبورن کی شکست سے حوصلہ ٹوٹ گیا تھا لیکن وارنر کو سڈنی ٹسٹ کے لئے اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے اور آسٹریلیائی ٹیم انتظامیہ تیسرے ٹسٹ میں ان کو کھلانے کا ارادہ رکھتی ہے، خواہ وہ بالکل فٹ ہوں یا نہیں۔ وارنر کمر کی انجری کی وجہ سے پہلے دو ٹسٹ سے غیر حاضر تھے۔ جب کہ ملبورن ٹسٹ کی فتح کے ساتھ ہی ہندوستانی ٹیم کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں، آسٹریلیائی ٹیم سڈنی ٹسٹ میں واپسی کرنا چاہتا ہے جہاں اس کا ایک بہت ہی شاندار ریکارڈ ہے۔ ہندوستان نے 1978 میں پہلی بار سڈنی گراؤنڈ پر ٹسٹ جیتا تھا اور وہ اس گراؤنڈ پر گزشتہ 43 برسوں میں اپنی پہلی جیت کی منتظر ہے۔

سڈنی ٹسٹ میں دونوں ٹیمیں موذی کورونا وائرس کے درمیان اپنے دعوے پیش کریں گی۔ حالیہ دنوں میں سڈنی میں کورونا وائرس کے کیسزمیں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا اس میچ کو دیکھنے والوں کی تعداد میں تخفیف کی گئی ہے۔ ملبورن میں جہاں 50 فیصد ناظرین کی اجازت تھی، وہیں سڈنی میں یہ تعداد گھٹا کر 25 فیصد کردی گئی ہے۔ نئے سال کا پہلا ٹسٹ عام طور پر ہاؤس فل ہوتا ہے لیکن اس بار دیکھنے والوں کی تعداد 10 ہزار ہوگئی ہے۔ اگر ہندوستان سڈنی میں جیت جاتا ہے تو ٹیم انڈیا بارڈر-گواوسکر ٹرافی برقرار رکھے گا کیونکہ انہوں نے دو سال قبل 2018–19 میں آسٹریلیائی سرزمین پر ٹسٹ سیریز 2-1 سے جیتی تھی۔

اجنکیا رہانے نے جس طرح ملبورن ٹسٹ میں سنچری اور اپنی بہترین کپتانی کے ساتھ ٹیم انڈیا کی قیادت کی اس کے لئے انہیں چہار جانب سے ستائش ملی ہے۔ سڈنی کا ٹسٹ میچ اجنکیا رہانے کے لئے ایک اور زبردست امتحان ہوگا جہاں ٹیم کو برتری دلانا ان کی بہت بڑی ذمہ داری ہوگی۔ روہت شرما اوپننگ میں شبھ من گل کے ساتھ جائیں گے اور پہلے دو ٹسٹ میں فلاپ رہے مینک اگروال کو باہر رہنا پڑے گا۔ نمبر تین بیٹسمین پجارا پرانے فارم کی تلاش میں ہیں اور سڈنی ان کے لئے اچھا میدان ثابت ہوسکتا ہے جہاں وہ آخری ٹور میں ڈبل سنچری سے محروم رہے تھے۔

پہلے دو ٹسٹ سے باہر رہنے والے لوکیش راہل کلائی کی انجری کے باعث دورے سے باہر ہوگئے ہیں، لہذا ہندوستانی بیٹنگ میں کسی اور تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ جو بھی تبدیلیاں آئیں گی وہ تیز بولنگ کے شعبہ میں ہوں گی۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بمراہ اور سراج کے ساتھ تیسرا فاسٹ بالر کون ہوگا۔ ٹھاکر نے ہندوستان کے لئے ایک ٹسٹ کھیلا ہے جبکہ سینی اور نٹراجن نے ابھی اپنا آغاز کرنا ہے۔ دوسری طرف ڈیوڈ وارنر کوآسٹریلیائی ٹیم میں جو برنز کی جگہ دی گئی ہے اور یہ میزبان ٹیم کے لئے بھی دلچسپی والی بات ہوگی کہ کیا کنکشن سے صحت یاب ہونے والے ول پوکووسکی کو اوپننگ میں لایاجائے گا یا نہیں۔ آسٹریلیا ابھی تک میتھیو ویڈ سے اوپننگ کروا کر کام چلا رہا تھا۔

آسٹریلیائی ٹیم کے لئے سب سے زیادہ پریشانی اس کے ماسٹر بلے باز اسٹیون اسمتھ کا آؤٹ آف فارم رہنا ہے، جو اب تک سیریز میں صرف 10 رنز بنانے میں کامیاب ر ہے ہیں اور وہ بار بار ٹیم انڈیا کے آف اسپنر روی چندرن اشون کا شکار ہوچکے ہیں۔ خود اسمتھ بھی اشون کا توڑ تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اشون نے سیریز میں 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ سڈنی کی پچ کو عام طور پر اسپنروں کے لئے مددگار سمجھا جاتا ہے جہاں آسٹریلیائی ٹیم کے آف اسپنر ناتھن لیون ہندوستان کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ لیون کو اپنی 400 ویں ٹسٹ وکٹیں مکمل کرنے کے لئے چھ وکٹیں درکار ہیں۔

آسٹریلیائی کے آخری دورے میں سڈنی ٹسٹ میں چائنا مین گیند باز کلدیپ یادو نے حیرت انگیز مظاہرہ کیا تھا لیکن امید نہیں ہے کہ اس بار انہیں اشون اور جڈیجہ کے ساتھ موقع ملے گا۔ دونوں ٹیمیں سڈنی میں برتری حاصل کرنے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگادیں گی، جس کی امید ہے۔ ناظرین کا خیال ہے کہ سڈنی ٹسٹ انتہائی دلچسپ ہونے جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next