تندولکر کو ’عظیم‘ بنانے والے ’استاد‘ آچریکر چل بسے، ایک ڈانٹ سے بدل دی تھی سچن کی زندگی

سچن تندولکر کو ایک عظیم کھلاڑی بنانے میں آچریکر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ کئی مرتبہ سچن نے کوچ آچریکر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ نہیں ہوتے تو شاید میں اس مقام پر نہیں ہوتا۔ پیش ہیں دو واقعات:

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ماسٹر بلاسٹر کے نام سے مشہور قدآور بلے باز سچن تندولکر کے کوچ رماکانت آچریکر کا 87 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ آچریکر کا جنم 1932 میں ہوا تھا۔ سچن تندولکر کو ایک عظیم کھلاڑی بنانے میں آچریکر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ کئی مرتبہ سچن نے کوچ آچریکر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر وہ نہیں ہوتے تو شاید میں اس مقام پر نہیں ہوتا۔‘ پیش ہیں سچن تندولکر کی طرف سے سنائے گئے دو واقعات۔

سچن تندولکر کو اپنے استاد آچریکر سے کتنا لگاؤ تھا اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پریکٹس کے دوران سچن کو آؤٹ کرنے کے لئے چیلنج کے طور پر جن ایک روپے کے سکوں کو اسٹمپ کے اوپر رکھا جاتا تھا انہیں سچن نے آج بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کوچ آچریکر نے جب تقریباً 11 سال کے سچن کو بلے بازی کے لئے بلایا تھا تو وہ سچن سے متاثر نہیں ہو سکے تھے اور انہوں نے سچن کے بھائی اجیت تندولکر کو کچھ سال بعد انہیں واپس لانے کی صلاح دی تھی۔ لیکن اجیت کی التجا پر انہوں نے دوبارہ موقع دیا اور جسے سچن نے اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا، اس مرتبہ انہوں نے اپنی بلے بازی سے آچریکر کو خاصہ متاثر کیا۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد ہی سچن نے کوچ آچریکر کی سرپرستی میں کرکٹ میں اپنا لوہا منوانا شروع کر دیا۔

تمام کھلاڑیوں کو سچن کو پریکٹس کے دوران آؤٹ کرنا مشکل ہونے لگا۔ اس پر کوچ آچریکر نے ایک ترکیب آزمائی، انہوں نے سچن کی بلے بازی کے دران اسٹمپز پر ایک روپے کا سکہ رکھنا شروع کر دیا۔ جو بھی گیندباز سنچ کو آؤٹ کرتا تھا سکہ اس کا ہو جاتا تھا۔ سچن کے مطابق انہوں نے ایسے کئی سکوں کو آج بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ وہ ان سکوں کو اپنے استاد کی طرف سے دیا گیا بیش قیمتی تحفہ قرار دیتے ہیں۔

استاد آچریکر کی ایک ڈانٹ نے بدل دی تھی سچن کی زندگی

دوسرا واقعہ سچن تندولکر نے دو سال قبل سنایا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح استاد آچریکر کی ایک ڈانٹ نے ان کی زندگی بدل دی تھی۔

سچن اپنے اسکول کی جونئر ٹیم میں کرکٹ کھیلتے تھے اور ان کی سینئر ٹیم وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہیرس شیلڈ فائنل کھیل رہی تھی۔ کوچ رماکانت آچریکر نے سچن کے لئے ایک پریکٹس میچ رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے سچن سے کہا کہ ’اسکول کے بعد وہاں آ جانا میں نے کپتان سے تمہارے لئے بات کی ہوئی ہے۔ تمہیں نمبر چار پر بلے بازی کرنی ہے اور فیلڈنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘

سچن اس پریکٹس میچ میں نہیں گئے اور وانکھیڑے اسٹیڈیم پہنچ گئے جہاں انہوں نے سینئر ٹیم کے میچ کا لفط اٹھایا اور حوصلہ افزائی کی۔ کھیل کے بعد سچن نے کوچ آچریکر کو دیکھا تو سلام کیا۔ آچریکر نے سوال کیا، ’آج تم نے کتنے رن بنائے! سچن نے جواب دیا ’سر یہاں ہماری سینئر ٹیم کھیل رہی تھی میں تو یہاں ان کی حوصلہ افزائی کرنے آیا تھا۔‘ یہ سنتے ہی آچریکر سر نے سچن کو سب کے سامنے ڈانٹ لگائی۔

استاد آچریکر نے کہا، ’تمہیں دوسروں کے لئے تالی بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنے کرکٹ پر توجہ دو۔ ایسا کچھ حاصل کرو کہ دوسرے لوگ تمہارے لئے تالی بجائیں۔‘ سچن کے لئے یہ بہت بڑا سبق تھا۔ اس کے بعد یہ عظیم کھلاڑی کسی میچ سے غیر حاضر نہیں رہا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ آج تاریخ میں درج ہے۔ تندولکر کے نام بلے بازی کے تمام ریکارڈس درج ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنس 15921 اور ون ڈے میں سب سے زیادہ 18426 رن بنائے ہیں۔

Published: 2 Jan 2019, 10:10 PM