سچن پاجی کے کہنے پر نمبر 3 پر بیٹنگ دی گئی تھی:پٹھان

عرفان پٹھان بیٹنگ آرڈر کے ٹاپ میں زیادہ تر میچوں میں بیٹنگ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ کئی بار ضرورت پڑنے پر ہندوستان کے لئے سلامی بلے بازی کی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے ۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ہندستان کے سابق فاسٹ بالر عرفان پٹھان نے انکشاف کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے نمبر 3 پر بلے بازی کی ذمہ داری سچن پاجی کے کہنے پر انہیں سپرد کی گئی تھی حالانکہ کچھ لوگ اس کے لئے اس وقت کے کوچ گریگ چیپل کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ سال 2005 میں ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان ناگپور میں ون ڈے سیریز کا پہلے میچ میں بلے بازی آرڈر میں ترقی نے پٹھان کو اس میچ میں ہیرو بنادیا تھا جس میں انہوں نے 70 گیندوں پر 83 رنز اسکور کرتے ہوئے ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کی تھی۔ اس میچ میں ہندوستان نے سری لنکا کو 152 رنز سے شکست دی تھی۔

عرفان پٹھان نے رونق کپور کے ساتھ ان کے چینل بیونڈ دی فیلڈ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کے بعد یہ واضح کردیا تھا کہ جو لوگ گریگ چیپل کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے نمبر 3 پر آل راؤنڈر کے طور پر بھیج کر میرا کیریئر خراب کردیا اصل میں یہ سچن پاجی کا خیال تھا۔ انہوں نے راہل دراوڑ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مجھے نمبر 3 پر بھیجیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'وہ (عرفان) چھکے لگانے کی طاقت رکھتا ہے ، نئی گیند آسانی سے کھیل سکتا ہے اور تیز بولروں کو بھی اچھی طرح سے کھیل سکتا ہے ۔

عرفان پٹھان بیٹنگ آرڈر کے ٹاپ میں زیادہ تر میچوں میں بیٹنگ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ کئی بار ضرورت پڑنے پر ہندوستان کے لئے سلامی بلے بازی کی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے ۔ اس سلسلے میں زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ گریگ چیپل پٹھان کی بیٹنگ آرڈر میں ترقی کے ذمہ دار تھے ، جس کی وجہ سے لوگوں کا خیال ہے کہ فاسٹ بولر پٹھان کی بالنگ سے توجہ متاثر ہوئی ۔ حقیقت میں یہ خیال تندولکر کا تھا۔ تاہم پٹھان نے چیپل پر اپنے کیریئر کی تنزلی کا الزام عائد نہیں کیا ان کا کہنا ہے کہ 2005 سے 2007 تک ہندوستان کے کوچ کی حیثیت سے متنازعہ دور کی وجہ سے چیپل کو تنقید کا نشانہ بنانا آسان رہا ہے ۔

عرفان پٹھان نے مزید کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں پہلی بار اس تجربے کو اس وقت آزمایا گیا جب متھیا مرلی دھرن اپنے عروج پر تھے اور ان کے خلاف زبردست اٹیک کی حکمت عملی بنائی گئی تھی ۔ دلہارا فرنینڈو نے اس وقت اسپلٹ فنگر سلو بال کا تصور شروع کیا تھا۔ بیٹسمین اسے بھی اچھی طرح نہیں سمجھ سکے لہذا یہ یقین ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر میں اسے ہٹ کر سکا تو ہماری ٹیم کی بلے بازی کے لئے کام آسان ہوجائے گا خاص طور پر چونکہ یہ سیریز کا پہلا میچ تھا۔ یہ سچ نہیں ہے کہ گریگ چیپل نے میرا کیریئر خراب کیا۔ چونکہ وہ ہندوستان سے نہیں تھے اس لئے انہیں نشانہ تنقید بنانا آسان ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں پٹھان نے انکشاف کیا تھا کہ کیریئر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کے کردار ادا کرنے میں ٹیم مینجمنٹ کس طرح واضح نہیں تھا۔ پٹھان نے اپنے کیریئر کی ابتداء شاندار انداز میں کی تھی اور وہ جلدی ہی صرف 59 میچوں میں 100 ون ڈے وکٹیں لینے والے تیزترین ہندوستانی بولر بن گئے تھے۔ محمد سمیع کے ذریعے اس ریکارڈ کو توڑنے سے پہلے یہ ریکارڈ 13 سال تک قائم رہا تھا۔ لیکن جیسے جیسے چیزیں ترقی کرتی گئیں پٹھان کا کردار بھی بدلتا گیا۔ نئے بالر سے وہ پہلے یا دوسرے چینج بالر بن گئے۔ 59 میچوں میں 100 وکٹوں کے بعد پٹھان نے اگلے 61 میچوں میں 73وکٹیں حاصل کیں ۔

پٹھان نے کہا کہ جن لوگوں نے واقعی مجھے نقصان پہنچایا ہے اس کے بارے میں میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ انہوں نے مجھے جس طرح سے سپورٹ کرنا چاہئے تھا اس طرح حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سری لنکا کے خلاف 2008 میں ایک میچ کھیلا تھا اور میں نے ہندوستان کو یہ میچ جیتنے میں اس وقت مدد کی تھی جب 28 گیندوں میں 60 رنز کی ضرورت تھی اور سات وکٹیں گر چکی تھیں۔ میں نے اس میچ میں وکٹیں حاصل کی تھیں اور اس سے قبل دو میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ میں نے اس سیریز میں تین بار سنت جےسوریہ کو آؤٹ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد مجھے نیوزی لینڈ لے جایا گیا تاہم مجھے کوئی میچ نہیں کھلایا گیا اور مجھے ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ اور یہ ہوتا ہی رہا۔ میں اتفاق کرتا ہوں کہ میں زخمی ہوگیا تھا لیکن ایک روڈ میپ جو بولر کو اس کی واپسی کے لئے دینا چاہئے وہ مجھے نہیں دیا گیا۔