’ہندوستان سے فائنل مقابلہ بھی نہیں کھیلے گا پاکستان‘، باسط علی نے انٹرویو میں دیا حیرت انگیز بیان

باسط علی نے سوال کیا کہ جنگ ہوئی، اس کے فوراً بعد ایشیا کپ ہوا۔ یہاں دونوں ملک کھیلے، کیونکہ براڈکاسٹر کا پیسہ لگا ہوا تھا۔ لیکن کوئی یہ بتائے کہ آخر ہندوستانی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی کیوں نہیں لی؟

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان-پاکستان</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پاکستان نے ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ میں 15 فروری کو ہندوستان کے خلاف نہیں کھیلنے کا اعلان کر ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یکم فروری کو پاکستان حکومت نے اپنا یہ فیصلہ سنایا کہ وہ ہندوستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔ اس معاملہ میں پاکستان کے سابق کرکٹر باسط علی نے ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ سے گفتگو کے دوران کچھ حیرت انگیز باتیں سامنے رکھیں۔

باسط علی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا، یعنی ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان، افغانستان... یہ ایسے ممالک ہیں جہاں وہی ہوتا ہے جو حکومت بولتی ہے۔ حکومت کا ہی فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ ایک کرکٹر کے ناطے ہمیں حکومت کا فیصلہ ماننا ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا ہندوستان نے کی تھی، جب 2025 میں چمپئنز ٹرافی پاکستان میں کھیلنے سے ہندوستان نے منع کر دیا تھا۔ باسط علی نے یاد دلایا کہ 2023 عالمی کپ میں پاکستان کی ٹیم ہندوستان گئی تھی، تب جئے شاہ بی سی سی آئی میں تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ آپ عالمی کپ میں آئیے، ہم چمپئنز ٹرافی میں آئیں گے۔ پھر جئے شاہ بی سی سی آئی سے آئی سی سی چیف بن گئے اور انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چمپئنز ٹرافی ہائبرڈ ماڈل میں کھیلی گئی۔


بات چیت کے دوران باسط علی کہتے ہیں کہ جنگ ہوئی، جنگ کے فوراً بعد ایشیا کپ ہوا۔ ایشیا کپ میں دونوں ممالک کھیلے، کیونکہ اس میں براڈکاسٹر کا پیسہ لگا ہوا تھا، لیکن کوئی یہ بتائے کہ آخر ہندوستانی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی کیوں نہیں لی۔ ٹرافی تو ایشین کرکٹ کونسل کے چیف کو ہی دینی تھی۔ وہ آگے کہتے ہیں کہ جب 2023 میں آسٹریلیا یک روزہ عالمی کپ جیتا، تب وہ اگر منع کر دیتا کہ ہم وزیر اعظم سے ٹرافی نہیں لیں گے، تب کیا ہوتا؟ وہاں پر ہندوستانی ٹیم نے ٹرافی اس لیے نہیں لی کیونکہ وہ حکومت کا فیصلہ تھا۔ تب کسی نے کچھ نہیں منع کیا۔ اب جب پاکستان حکومت کو لگا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ غلط ہوا، تو ہم ہندوستان سے نہیں کھیلیں گے۔ وہ یہ انکشاف بھی کرتے نظر آئے کہ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ پاکستان ’یو-ٹرن‘ لے گا، وہ غلطی پر ہیں۔ پاکستان اپنے فیصلہ پر یو-ٹرن نہیں لے گا۔

انٹرویو کے دوران باسط علی نے یہ حیرت انگیز امکان بھی ظاہر کیا کہ ہندوستان اور پاکستان اب ٹی-20 عالمی کپ ٹورنامنٹ میں کوئی بھی میچ کھیلتے نظر نہیں آئیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے نہیں لگتا ہے کہ اب ہندوستان کے خلاف پاکستان کوئی بھی میچ کھیلے گا، چاہے وہ 15 فروری کا میچ ہو یا پھر ٹی-20 عالمی کپ کا فائنل۔ پہلے تالی دونوں ہاتھ سے بجے، لیکن اب آئی سی سی تالی ایک ہاتھ سے بجا رہا ہے، کیونکہ براڈکاسٹر سے ریونیو سب سے زیادہ ہندوستان کے پاس جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بی سی سی آئی سب سے زیادہ کمائی کرتا ہے، اسی وجہ سے آئی سی سی ہندوستان کو زیادہ نواز رہا ہے۔ بی سی سی آئی کے سارے فیصلے آئی سی سی ’ہاں‘ کر دیتا ہے، لیکن بنگلہ دیش کچھ بولتا ہے تو آئی سی سی منع کر دیتا ہے۔ آئی سی سی سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کر رہا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔