ٹی-20 عالمی کپ 2026: نیدرلینڈ کو شکست دینے میں چھوٹ گئے پاکستان کے پسینے، محض 3 گیند قبل ملی جیت
کولمبو میں کھیلا گیا ٹی-20 عالمی کپ کا پہلا میچ انتہائی دلچسپ رہا۔ پاکستان نے اس میچ میں نیدرلینڈ کو 3 وکٹ سے شکست ضرور دے دی، لیکن ایک وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑا الٹ پھیر ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کا آغاز جیت کے ساتھ کیا ہے، لیکن نیدرلینڈ کے خلاف اس جیت کو حاصل کرنے میں اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ کولمبو میں کھیلا گیا ٹی-20 عالمی کپ کا پہلا ہی میچ انتہائی دلچسپ ثابت ہوا۔ پاکستان نے اس میچ میں نیدرلینڈ کو 3 وکٹ سے شکست ضرور دے دی، لیکن ایک وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑا الٹ پھیر ہو سکتا ہے۔ نیدرلینڈ نے 147 رن بنائے تھے اور یہ ہدف عبور کرنے میں پاکستان کو 127 گیندیں کھیلنی پڑیں۔ یعنی پاکستان کو جب جیت ملی تو محض 3 گیندیں باقی رہ گئی تھیں۔
پاکستانی بلے بازی کا جب 18واں اوور ختم ہوا تھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے نیدرلینڈ جیت کے بہت قریب ہے۔ پھر 19ویں اوور میں فہیم اشرف نے 3 چھکے اور ایک چوکا لگا کر ٹیم کی میچ میں واپسی کرا دی۔ 20ویں اوور میں پاکستان نے ضروری ہدف حاصل کرتے ہوئے جیت کے ساتھ ٹورنامنٹ میں اپنی مہم فاتحانہ انداز میں شروع کی۔
آر پریمداسا اسٹیڈیم میں ہفتہ، یعنی 7 فروری کو گروپ-اے کے میچ میں پاکستانی ٹیم نے نیدرلینڈ کو تیز شروعات کے بعد بڑے اسکور تک پہنچنے سے روک دیا، جو اس کے لیے آخر میں نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ حالانکہ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے نیدرلینڈ کے سلامی بلے باز مائیکل لیوٹ نے شاہین آفریدی کی گیندوں پر باؤنڈری کی بارش کرتے ہوئے تیز شروعات دلائی تھی۔ پھر پاکستانی گیندبازوں نے وقفہ وقفہ پر وکٹ لینا شروع کیا، جس کی وجہ سے نیدرلینڈ کے رنوں کی رفتار دھیمی پڑ گئی۔ نیدرلینڈ کے لیے سولہواں اور سترہواں اوور مشکل بھرا ثابت ہوا، کیونکہ کپتان اسکاٹ ایڈورڈس سمیت 3 وکٹ جلدی جلدی گر گئے۔ 2 وکٹ تو 17ویں اوور میں ہی صائم ایوب نے گرا دیے، جس نے نیدرلینڈ کی کمر توڑ دی۔ اُس وقت نیدرلینڈ کا اسکور 127 رن تھا۔ اس کے بعد 20ویں اوور میں پوری ٹیم صرف 147 رن پر ہی سمٹ گئی۔ پاکستانی تیز گیندباز سلمان مرزا نے سب سے زیادہ 3 وکٹ لیے۔ صائم ایوب، محمد نواز اور ابرار احمد کو 2-2 وکٹ حاصل ہوئے۔
گیندبازی کے بعد صائم ایوب نے بلے بازی میں بھی بہترین فارم کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے محض 13 گیندوں میں 24 رن بنا ڈالے۔ دوسری طرف صاحب زادہ فرحان نے بھی اسکورنگ ریٹ کو رفتار دی۔ یہی وجہ ہے کہ 11ویں اوور تک ہی پاکستان نے 2 وکٹ پر 98 رن بنا لیے تھے اور جیت آسان دکھائی دے رہی تھی۔ پھر اچانک حالات بدل گئے۔ وکٹوں کا پت جھڑ شروع ہوا جس نے رنوں کی رفتار بھی روک دی۔ پاکستان نے محض 2 رنوں کے اندر 3 وکٹ گنوا دیے۔
یہاں سے نیدرلینڈ کے گیندبازوں نے میچ پر شکنجہ کسنا شروع کیا۔ 114 رن کے اسکور تک پاکستان کے 7 وکٹ گر گئے تھے۔ حالات ایسے تھے کہ پاکستان کو آخری 2 اوورس میں 2+ رنوں کی ضرورت تھی اور شکست بہت قریب دکھائی دے رہی تھی۔ پھر 19ویں اوور کی پہلی گیند پر فہیم اشرف نے چھکا لگا دیا۔ اگلی گیند پر نیدرلینڈ کے میکس اوڈاؤڈ نے فہیم اشرف کا کیچ چھوڑ دیا، اور یہی نیدرلینڈ کی شکست کی سب سے بڑی وجہ ٹھہرائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد فہیم نے اسی اوور میں مزید 2 چھکے اور ایک چوکا لگایا۔ اس طرح اوور میں مجموعی طور پر 24 رن بن گئے۔ آخری اوور میں محض 5 رنوں کی ضرورت تھی اور تیسری گیند پر فہیم نے چوکا لگا کر پاکستانی ٹیم کی عزت بچا لی۔