کرکٹ: ایک بار پھر دوسری اننگ میں خطرناک ثابت ہوئے محمد شامی، وراٹ نے کی تعریف

وراٹ کوہلی نے شامی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہمارے لئے دوسری اننگز میں مسلسل اسٹرائیک گیندباز رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے 5-4 وکٹ کی کارکردگی کو دیکھیں تو بیشتر دوسری اننگز میں آئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستانی فاسٹ بولر محمد سمیع دوسری اننگز میں زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں اور اس بات کو انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔ سمیع نے وشاکھاپٹنم میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پانچویں اور آخری دن 35 رن پر پانچ وکٹ لے کر ہندستان کو 203 رنز سے جیت دلائی۔ سمیع کو پہلی اننگز میں کوئی وکٹ حاصل نہیں ہوا تھا لیکن سمیع کی دوسری اننگز کی خطرناک گیند بازی کے سبب جنوبی افریقہ ٹیم دوسری اننگز میں محض 191 رنز پر سمٹ گئی۔

گزشتہ 23 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی ہندوستانی فاسٹ بولر نے گھریلو ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کیے ہیں۔ اس سے پہلے 1996 میں جوگل سری ناتھ نے احمد آباد میں جنوبی افریقہ کے خلاف چوتھی اننگز میں پانچ وکٹ لئے تھے۔ اس فہرست میں دیگر ہندوستانی فاسٹ بولر كرزن گھاوری، کپل دیو اور مدن لال ہیں۔

سال 2018 کے بعد سے سمیع دوسری اننگز میں تین بار پانچ وکٹ لے چکے ہیں جو کسی بولر کے لئے سب سے زیادہ ہے۔ وہ 15مرتبہ دوسری اننگز میں 17.70 کی اوسط سے 40 وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے مقابلے 16 بار پہلی اننگز میں انہوں نے 37.56 کے اوسط سے صرف 23 وکٹ لئے ہیں اور پہلی اننگز میں ان کی بہترین کارکردگی 64 رن پر تین وکٹ رہی ہے۔

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے سمیع کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ سمیع ہمارے لئے دوسری اننگز میں مسلسل اسٹڑائیک بولر رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے چار پانچ وکٹ کی کارکردگی کو دیکھیں تو وہ سب کے سب دوسری اننگز میں آئے ہیں جب ٹیم کو وکٹوں کی اشد ضرورت تھی۔ اگر گیند تھوڑا بھی ریورس ہو رہی ہے تو سمیع خطرناک ہو جاتے ہیں۔

سمیع نے اپنے کپتان وراٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وراٹ گیند بازوں کو اس بات کی آزادی دیتے ہیں کہ ان کا اسپیل کتنا لمبا رہے گا۔ سمیع نے کہاکہ وراٹ کپتان کے طور پر ہمیشہ ہماری باتیں سنتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمیں اس بات کی آزادی دیتے ہیں کہ ہم اپنی حکمت عملی پر کام کریں۔ وہ ہمیں اس بات کی آزادی دیتے ہیں کہ ہم اپنے اسپیل میں پانچ، سات یا اس سے زیادہ اوور بولنگ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے اوپر انحصار کرتے ہیں اور ہمیں ان پر پورا بھروسہ ہے۔

تین میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 10 اکتوبر سے پنے میں کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا ٹیسٹ 19 اکتوبر سے رانچی میں کھیلا جائے گا۔