جموں: 42 کروڑ روپے خرچ کے باوجود ’مولانا آزاد اسٹیڈیم‘ کرکٹ کے بنیادی ڈھانچوں سے محروم

جموں و کشمیر کے سابق رنجی کپتان اشونی کا کہنا ہے کہ ایک طرف دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسٹیڈیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے، اور دوسری طرف اس میں ’پریکسٹس ٹرفز‘ بھی موجود نہیں ہیں۔

علامتی، تصویر یو این آئی
علامتی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جموں: جموں شہر کے قلب میں واقع مولانا آزاد اسٹیڈیم کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کے ایک لازمی جز 'پریکٹس ٹرفز' سے محروم ہے۔ نیشنل پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ (این پی سی سی) نے سال 2020 میں زائد از 42 کروڑ روپے خرچ کر کے اس اسٹیڈیم کو اپ گریڈ کیا تھا۔

جموں و کشمیر کے سابق رانجی کیپٹن اشونی گپتا نے اس معاملے پر اظہار حیرانگی کرتے ہوئے یو این آئی کو بتایا کہ ایک طرف دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس اسٹیڈیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ اس میں 'پریکسٹس ٹرفز' موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد کرنا کافی نہیں ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنا لازمی ہے۔


موصوف جو جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے بتایا کہ اسٹیڈیم کی تجدید کاری سے قبل اسٹیڈیم پریکٹس ٹرفز موجود تھیں اب کیوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'اپ گریڈیشن کے بعد پریکٹس ٹرفز کو بنایا جانا چاہئے تھا ایسا کیوں نہیں کیا گیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے جبکہ اسٹیڈیم کے اندر اور باہر ٹرفز کے لئے جگہ موجود ہے'۔ ایک اور سابق کرکٹر رنجیت کالرا نے کہا کہ اسٹڈیم میں جو کمیاں اور خامیاں ہیں ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔