عالمی کپ: آخری میچ میں بنگلہ دیش سے جیتا، پھر بھی ’ہار‘ گیا پاکستان

دونوں ٹیموں کے آخری لیگ میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو 94 رنوں سے ہرا دیا لیکن اس کے باوجود وہ نیٹ رن ریٹ میں نیوزی لینڈ سے پچھڑكر سیمی فائنل کی ریس سے باہر ہو گیا اور اس طرح وہ جیت کر بھی ہار گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لندن: سلامی بلے باز امام الحق (100) کی شاندار سنچری سے پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے آخری لیگ میچ میں جمعہ کو 94 رنوں سے کامیابی حاصل کی لیکن اس جیت کے باوجود اسے نیٹ رن ریٹ میں نیوزی لینڈ سے پچھڑكر آئی سی سی ورلڈ کپ سے باہر ہونا پڑا۔

پاکستان نے نو وکٹ پر 315 رن بنائے جبکہ بنگلہ دیش کی ٹیم 44.1 اوور میں 221 رن ہی بنا سکی۔ پاکستان کو 315 رن بنانے کے بعد اگر سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرنا تھا تو اسے بنگلہ دیش کو سات رنوں یا اس سے کم کے اسکور پر آؤٹ کرنا تھا لیکن بنگلہ دیش کے دو اوور میں آٹھ رن بنانے کے ساتھ ہی پاکستان باضابطہ طور عالمی کپ سے باہر ہو گیا . پاکستان نے اس کے بعد محض خانہ پوری کرنے کے لئے فتح حاصل کی۔

پاکستان کی آٹھ میچوں میں یہ پانچویں جیت رہی اور اس نے 11 پوائنٹس کے ساتھ اپنی مہم ختم کی۔ اس سے نیوزی لینڈ کے برابر 11 پوائنٹس رہے لیکن نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ پلس اور پاکستان کا مائنس رہا. بنگلہ دیش کی نو میچوں میں یہ پانچویں ہار رہی اور اس نے سات پوائنٹس کے ساتھ اپنی مہم ختم کی۔

آسٹریلیا، ہندستان ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچ گئیں اور ہفتہ کو ہندستان اور سری لنکا اور آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے میچ سے یہ فیصلہ ہوگا کہ آسٹریلیا اور ہندستان میں کون سی ٹیم نمبر ایک اور دو پر رہے گی۔ انگلینڈ کی ٹیم تیسرے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم چوتھے نمبر پر رہے گی۔ سیمی فائنل میں نمبر ایک ٹیم کی چوتھے نمبر کی ٹیم سے اور نمبر دو ٹیم کا تیسرے نمبر کی ٹیم سے مقابلہ ہوگا۔

پاکستان کے لئے افسوس کی بات یہی رہی کہ اس نے اپنے آخری میچ میں 315 رن کا باعزت اسکور بنایا. پاکستان کے سابق بڑے بلے باز ظہیر عباس نے پاکستان کی ٹیم کے لئے کہا ہے کہ اس نے جس طرح ٹورنامنٹ میں واپسی کی تھی وہ اس کے لئے فخر کی بات تھی اور ٹورنامنٹ کو لے کر اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے.۔

اس مقابلے میں پاکستان نے ٹاس جیت کر اس امید کے ساتھ پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا کہ وہ 400 سے اوپر کا اسکور بنائے اور بنگلہ دیش کو 84 سے نیچے آؤٹ کر مقابلہ جیتے. لیکن پاکستان کی ٹیم 315 رن ہی بنا سکی.۔

پاکستان کے لئے ان کے اوپنر امام الحق نے 100 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے 100 رن بنائے اور وہ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز مستفق الرحمن کی گیند پر ہٹ وکٹ آؤٹ ہوئے. امام الحق نے دوسرے وکٹ کے لئے بابر اعظم کے ساتھ 157 رن کی ساجھےداری کی. اعظم نے 98 گیندوں پر 96 رن میں 11 چوکے لگائے۔

محمد حفیظ نے 25 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 27 رنز اور عماد وسیم نے 26 گیندوں میں چھ چوکوں اور ایک چھکے کے سہارے 43 رن بنائے. بعد کے بلے باز کوئی خاص کارکردگی نہیں کر پائے۔