ٹی-20 عالمی کپ کے فائنل میں ٹاس کتنا اہم

میچ میں اوس ایک بڑا عنصر ہے کیونکہ شبنم کی وجہ سے دوسری اننگز میں گیندبازی خاص طور پر اسپن بولنگ کو قدرے مشکل اور بلے بازی آسان ہوجاتی ہے۔

ٹی-20 عالمی کپ، تصویر آئی اے این ایس
ٹی-20 عالمی کپ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

دبئی: اس ورلڈ کپ میں یہ ایک رواج بن گیا ہے کہ شام کے میچ میں ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے گیندبازی کرتی ہے اور پھر ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میچ جیت لیتی ہے۔ فائنل میچ دبئی میں ہوگا جہاں 12 میں سے 10 میچ ٹاس جیتنے والی ٹیم ہی جیتی ہے۔ اس کے علاوہ ابوظہبی اور دبئی میں 27 ڈے نائٹ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سے 21 میچز اس ٹیم نے جیتے ہیں جنہوں نے ہدف کا تعاقب کیا۔

اس میں اوس ایک بڑا عنصر ہے کیونکہ شبنم کی وجہ سے دوسری اننگز میں گیندبازی خاص طور پر اسپن بولنگ کو قدرے مشکل اور بلے بازی آسان ہوجاتی ہے۔ ناک آؤٹ میچ دیکھنے کے بعد محسوس ہوا کہ یہاں آخری اوورز میں 12 رنز/اوور بھی بچانا مشکل ہے۔ فلڈ لائٹس کے نیچے دوسری اننگز کے دوران، تیز گیند بازوں نے یہاں نو میچوں میں صرف آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں اور اس دوران 10 کی اکانومی سے فی اوور رنز دیئے ہیں۔


ورلڈ کپ میں سپر 12 میچوں کے آغاز سے ہی یہ رجحان بن گیا کہ ہدف کا پیچھا کرنے والی ٹیم جیت رہی ہے۔ اس دوران 23 میں سے 18 میچ اسی طرح جیتے گئے، جب کہ دبئی میں یہ ریکارڈ نو میں سے نو میچوں کا تھا۔ تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ 2014 اور 2016 کے ٹی-20 ورلڈ کپ میں رات کے میچوں میں زیادہ تر وہی ٹیم جیت رہی تھی، جو ہدف کا پیچھا کر رہی تھی۔ اسی طرح ٹاس جیتنے والی ٹیموں کو بھی اس بار کی طرح ہی فائدہ مل رہا تھا۔

دونوں سیمی فائنل میچوں کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر آپ بڑے میچوں میں جیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بڑا اسکور کرنا ہوگا۔ 2014 سے ٹی-20 ورلڈ کپ کے آٹھ ناک آؤٹ مقابلوں میں سے سات میچ ہدف کا پیچھا کرنے والی ٹیموں کے ذریعہ جیتے گئے ہیں۔ آسٹریلیا نے اس ٹورنامنٹ میں اب تک پانچوں بار ٹاس جیتا ہے، حالانکہ انگلینڈ کے خلاف انہیں میچ میں شکست ملی تھی۔ وہیں نیوزی لینڈ نے اس ٹورنامنٹ میں اب تک صرف دوہی بار ہندوستان اورانگلینڈ کے خلاف دو اہم میچوں میں ٹاس جیتا ہے۔ گزشتہ چھ ورلڈ کپ فائنل میں پانچ بار ٹاس جیتنے والی ٹیم نے ہی خطاب جیتا ہے۔


اگر ہم گزشتہ چیمپئنز کی بات کریں تو ویسٹ انڈیز نے 2016 کے ورلڈ کپ میں تمام چھ میچوں میں ٹاس جیتا اور خطاب اپنے نام کیا تھا۔ ان تمام چھ میچوں میں اس نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح 2012 کی خطابی جیت میں بھی انہوں نے سات میں سے چھ میچوں میں ٹاس جیتا تھا۔ 2007 میں، ہندوستان نے پانچ میچوں میں ٹاس جیتا تھا، جس میں ناک آؤٹ کے دواہم مقابلے شامل ہیں۔ وہیں 2014 میں سری لنکا نے اپنی خطابی جیت میں وہ تمام چار میچ جیتے تھے جس میں انہوں نے ٹاس جیتا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔