اناؤ میں کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم پر شہد کی مکھیوں کا حملہ، امپائر کی موت، متعدد کھلاڑی زخمی
میچ معمول کے مطابق چل رہا تھا اوردونوں ٹیموں کے کھلاڑی میدان میں موجود تھے۔ اچانک شہد کی مکھیوں کا بڑا غول میدان کی طرف آگیا اور کھلاڑیوں اور افسران پر حملہ کر دیا جس کے بعد میدان پرافراتفری مچ گئی۔

اترپردیش میں اناؤ کے شکلا گنج واقع سپرو اسٹیڈیم میں انڈر 13 کرکٹ میچ کے دوران شہد کی مکھیوں کے حملے میں 65 سالہ امپائر مانک گپتا کی موت ہوگئی۔ اس واقعے میں ایک اورامپائراورکئی کھلاڑی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کا کانپور کے ایک اسپتال میں کیا جارہا ہے اور ان کی حالت فی الحال خطرے سے باہر بتائی جارہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سپرو اسٹیڈیم میں ایچ اے اکیڈمی اور ایس بی ایس اکیڈمی کے درمیان انڈر 13 مقابلہ کھیلا جا رہا تھا۔ میچ معمول کے مطابق چل رہا تھا اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑی میدان میں موجود تھے۔ اسی دوران اچانک شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا غول میدان کی طرف آگیا اور کھلاڑیوں اور افسران پر حملہ کر دیا۔ میدان پر اچانک اس حملے سے افراتفری مچ گئی۔ کھلاڑی خود کوبچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ شائقین میں بھگدڑ جیسے حالات پیدا ہوگئے۔ اسی دوران امپائرنگ کررہے کانپور کے فیل خانہ کے رہنے والے 65 سالہ مانک گپتا شہد کی مکھیوں کے حملے کی زد میں آگئے۔ ان کے جسم پر کئی جگہ ڈنگ لگے۔ دوسرے امپائرجگدیش شرما اور کچھ دیگرکھلاڑی بھی زخمی ہوگئے۔
واردات کے فوراً بعد منتظمین اور مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو شکلا گنج کے دو نجی اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد مانک گپتا کی حالت تشویشناک دیکھتے ہوئے انہں کانپورکے ہیلٹ اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں ایمرجنسی میں داخل کرایا اورعلاج شروع کیا گیا۔ دریں اثنا انہیں کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹر انہیں بچا نہیں سکے۔ اسپتال انتظامیہ نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
متوفی مانک گپتا تقریباً 30 سال سے کانپور کرکٹ ایسوسی ایشن (کے سی اے) سے وابستہ تھے۔ وہ کے ڈی ایم اے کرکٹ لیگ میں باقاعدہ طور پر سے امپائرنگ کرتے تھے اور مقامی کرکٹ کمیونٹی میں ایک تجربہ کار اور غیر جانبدار امپائر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی موت سے مقامی کرکٹ کھلاڑیوں اور افسران میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دوسرے امپائر جگدیش شرما اور دیگر زخمی کھلاڑیوں کاعلاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت مستحکم اور خطرے سے باہر ہے۔
واردات کے بعد اسٹیڈیم کمپلیکس میں سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ مکھی کا چھتا کھیت میں یا اس کے آس پاس کہیں موجود ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ انتظامیہ نے صورتحال کاجائزہ لیا گیا اور واقعہ کی وجوہات کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ یہ حادثہ ایسے وقت ہوا جب چھوٹے بچے میچ کھیل رہے تھے کھیل کے دوران اچانک ہوئے اس حملے نے کھلاڑیوں اور سرپرستوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے۔ جس میدان پر کچھ دیر پہلے تک کھیل کا جوش تھا وہیں واردات کے بعد سناٹا چھاگیا۔ مقامی کھیل تنظیموں نے مٹستقبل میں ایسے کھیلوں سے پہلے سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔